نیا سال، وہی ہڈیاں وہی کھال — اشرف حماد

0
43

نیا سال پھر چپکے سے آ دھمکا ہے۔ اب وہی فارمل باتیں ہوں گی۔ دیکھا جائے تو وہ ہورہی ہیں، اور بڑے طمطراق سے ہو رہی ہیں۔ دسمبر کے آخری ہفتے سے تو کان پک گئے ہیں۔ کیا کریں جنوری کے اینڈ جنٹل تک یہی ہوگا۔ کوئی بن بلائے مہمان کی طرح ملے ہتھوڑا اور برسائے: ”نیا سال مبارک ہو”۔جواب میں ہم زچ ہوکر کہیں: ”شکریہ، آپ کو بھی نیا سال مبارک ہو۔”

جمعہ جمعہ آٹھ دن گزریں گے تو مبارک بادیں کچھ اس انداز کی ہوں گی: ”معاف کریں موقع نہیں ملا” یا ”بھئی کئی بار فون کیا مگر بات ہی نہیں ہو سکی ” یا پھر”معاف کرنا میں گاؤں کیا تھا لہٰذا مبارک باد تاخیر سے دے رہا ہوں…بہر حال آپ کو نئے سال کی ڈھیر ساری مبارکبادیں ہوں۔” مطلب آپ کو نئے سال کی مبارک باد کہے بنا کوئی نہیں چھوڑے گا۔

اس کے بعد گردش ایام پھر وہی ہوں گے، جو گذشتہ سال تھے، جو اس سے پچھلے سال تھے۔ یا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ کتنے نئے سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ یعنی میٹاڈاروں کے دھکّے، کھڑکیوں پر قطاریں، بیگم کی جھڑکیاں، کرم فرماؤں کی بھڑکیاں، ٹی وی کی جلی کٹی "خبریاں”، باس کی یک چشم گل نظر، دفاتر میں سیاست، دوستوں کے سبزی خور جوک جنہیں وہ نان ویج انداز میں سنا کر طبیعت کو اور بھی مکدّر و پُرخشم کر دیتے ہیں۔

جب ایک شناسا نے مجھے نئے سال کی مبارک باد ماری تو میں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا نیا سال کسی پابند سلاسل وقت کا محتاج نہیں۔ وہ تو بغیر اجازت آتا رہتا ہے۔ سال کے معنی ہیں سورج کے گرد زمین کا ایک چکّر۔ اور یہ چکّر چلتے رہتے ہیں۔ زمین جہاں اس وقت ہے وہاں وہ اب سے ٹھیک ایک سال پہلے تھی۔ اور اب ٹھیک ایک سال بعد دوبارہ پھر اس جگہ آئے گی۔ لہٰذا ہر گزرتا پل ایک نیا سال ہے۔ وہ صاحب اردو کے سات کے ہندسے کی طرح منھ کھولے میری باتیں سنتے رہے۔ اس کے بعد آنکھیں جھپکاتے ہوئے گرم جوشی سے ہاتھ ملا کر بولے، ”چلئے ، آپ کو ہر نئے پل نیا سال مبارک ہو”۔ اور میں اپنا سا منھ لے کر رہ گیا۔

جنوری کی پہلی صبح کے کُہر کے قہر میں میں نے ایک کانپتے آٹو ڈرائیور پر افلاطونیت کا نسخہ آزمانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا: ”برخوردار جانتے ہو یہ دنیا اس وقت اپنے محور پر اس قدر سست رفتار سے گھوم رہی ہے کہ اس کا ایک چکّر ایک کھرب ایک ارب ایک کروڑ ایک سو چھیاسی کے ہندسے کو اتنے ہی بڑے ہندسے سے 11 بار ضرب دے کر جو حاصلِ ضرب آئے گا اتنے سال میں پورا ہوتا ہے۔ اور پوری کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس قدر آہستہ گھومنے کے باوجود اس کے سب سے باہری سرے پر گھومنے کی رفتار ایک لاکھ کھرب میل فی سیکنڈ ہے۔ اور تم ہو کہ بڈشاہ چوک سے مہاراج گنج تک دو کلومیٹرکے دو سو روپے مانگ رہے ہو اور وہ بھی برائے نام سیٹ کے۔”

یہ سن کر ڈرائیور بار بار آنکھیں جھپکانے لگا اور اپنے دوست سے، جو اس کے ساتھ ہی اس کی آدھی سیٹ پر براجمان تھا، کہا "صاحب سے کرایہ نہیں لیتے ہیں، لگتا ہے یہ کوئی بھٹکی ہوئی روح ہیں، لہٰذا انہیں حفاظت سے مہاراج گنج میں اتاریں گے”۔ کائنات کے اس چکّر نے مجھے پھر چکّرایا۔

ایک "پکے” مسلمان کے طور پر میں نے سائنس نہیں پڑھی ہے۔ خلائی سائنس کی تو بات ہی نہیں کیونکہ وہ تو انکل سام کی "سازشی تھیوری” ہے۔ کوئی چیز اپنی جگہ پر ٹہری ہوئی نہیں ہے۔بلکہ سوائے کتابوں کے ہر چیز کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔ چاند زمین کے چکر میں دیوانہ ہے۔ زمین سورج کے عشق میں اس کے چکّرکاٹ رہی ہے۔سورج اپنی کہکشاں کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے۔ کہکشاں، کسی اور کہکشاں کے پیار میں فریفتہ ہے۔ اور وہ والی کہکشاں لگتا ہے کسی اور کہکشاں کے چکّر میں جھکڑ سہ رہی ہوگی۔ یہ سب دیکھ کر مجھے تو خود کائنات کے چال و چلن پر بھی شک ہے۔ یہ نیک بخت بھی یقیناً کسی نہ کسی کے چکّر میں ہے۔

ایک دن ایک خلائی "سائنس کار” نے میں مجھے نئی خلائی تحقیقات کی نوید نہیں بلکہ وعید سنائی۔ ہوا یوں کہ وہ یک لخت زور زور سے کمرے چکّر کاٹنے لگے اور چکّروں کے اس عمل میں خود چکّر کھا کر گر پڑے۔ میں نے گھبرا کر ان کی پُرشکن جبین پر ہاتھ رکھا۔ وہ ایک دم اٹھے، سیدھے کھڑے ہو کر ٹائی درست کی اور ہمیں تسلّی دیتے ہوئے بولے:” ڈونٹ وری، آئ ایم اوکے، بس ذرا چکّر سا آگیا تھا۔”

میں نے اس نئے چکّر کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ”کوئی خاص معاملہ نہیں۔ بس مجھے اچانک یہ سوجھی کہ اس وقت جو میں تمہارے ڈرائنگ روم میں سکون سے بیٹھا ہوا ہوں توحقیقت میں سب کچھ ایک دم ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ سب گردش میں ہے، زمین، سورج، چاند، ستارے، سیارے کہکشاں، حالات، خبریں، کردار، اطوار، دن مہینے اور سال۔ بس یہ سوچتے سوچتے چکّر سا آگیا…باقی آئی ایم اوکے۔”

یہ سن کر کچھ دیر کے لئے مجھے چکر سے لگے کیوں کہ خلائی علوم میں وہ ناسا کی بھٹکی ہوئی آتما ہے۔ خلائی سائنس تو کیا سائنس کی ابجد کے لحاظ سے میں پہنچا ہوا ناواقف ہوں۔

بہر حال نئے سال کی مبارک بادیں بغیر مٹھائی، بریانی اور ہریسہ کے آپ وصول کرتے رہیں۔ وہ اس لیے کہ سیاسی لیڈران، مختلف شعبوں کے ہیڈز، دفتروں کے باسز، یونینوں کے رہنما اور دوست، عزیز و اقارب، گرل اور بوائے فرینڈ اور تو اور سوشل میڈیا کے نیٹی زن دوست آپ کو نئے سال کی مبارک بادیں پیش کرنے میں کڑھائی میں زندہ مچھلیوں کی طرح تڑپ رہے ہیں۔

Leave a reply