پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

0
62
subiyal

ہمارے پیارے ملک کانام ’’ پاکستان ‘‘ ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور غیر دانشمدانہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ’’ مسائلستان ‘‘ بن چکا ہے ۔اس وقت ہمارے ملک کو بیشمار اور لاتعداد مسائل درپیش ہیں جن میں سے اہم ترین مسئلہ پانی کی قلت اور کثرت کا ہے ۔ موسم گرما میں جب ہمیں پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے بھارت ہمارے دریائوں کا پانی روک لیتا ہے اور موسم برسات میں جب بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں پاکستان کی ندیاں نالے اور دریا پانی سے بھر جاتے ہیں تو بھارت اپنی طرف کا پانی ہماری طرف چھوڑ دیتا ہے جس سے پاکستان میں شدید سیلاب آجاتا ہے اور ہرسال لاکھوں ایکڑزرعی اراضی بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہوجاتی ہے ۔اس وقت بھی یہی صورت حال درپیش ہے جس وجہ سے بے پناہ جانی مالی نقصان ہورہا ہے اس پر مستزاد یہ کہ بھارت نے اپنی طرف کا پانی ہماری طرف آنے والے دریائوں چھوڑ دیا ہے ۔

اس کے علاوہ کئی سالوں سے ہمارا ملک لوڈشیڈنگ کے شدید بحران کا شکار ہے۔ روزانہ کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے دوسری جانب ہماری حکومتیں لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہیں ۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے صنعتی پہیہ تیز تر گھمانے کے لیے سستی بجلی کی پیدوار کا بڑھایا جانا از حد ضروری ہے۔

سستی بجلی بنانے کا اہم ترین ذریعہ پانی ہے ۔ پانی نعمت خداوندی ہے ۔ پانی سے زندگی ہے ، جہاں پانی ہے وہاں زندگی ہے جہاں پانی نہیں وہاں موت ہے ۔ ماضی میں پانی کی خاطر خون ریز جنگیں ہوئیں۔ مستقبل میں عالمی افق پرجنگوں کے خطرات کے جواسباب منڈلا رہے ہیں، ان میں ایک بڑاسبب پانی ہوگا۔ جنوبی ایشیا۔۔۔ جہاں دنیا کی نصف آباد رہائش پذیر ہے اور پاکستان بھی اسی جنوبی ایشیا میں واقع ہے، یہاں موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں تیزی سے اضافے کے سبب پانی کے ذخائر خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں جتنے بھی ممالک واقع ہیں ان میں سے سب سے سنگین صورت حال پاکستان کو درپیش ہے اس کی بنیادی وجہ بھارت کی پاکستان سے ابدی دشمنی ہے۔ بھارتی نیتاؤں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ پاکستان کو صومالیہ کی طرح بنجر بنا دیں گے۔ بھارت نے اس مقصد کے لئے 50ملین ڈالر Rotating fund مختص کر رکھا ہے۔ اس سے مراد ایسا فنڈ ہے کہ مجموعی رقم سے اگر دس پندرہ ارب ڈالر نکال بھی لئے جائیں تو اسی وقت حکومت کی طرف سے اس میں اتنے ڈالر جمع کروا دیئے جا تے ہیں۔ بھارت یہ رقم عرصہ دراز سے خرچ کر رہا ہے، مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑے آبی ذخائر نہ بن سکیں ۔

سندھ طاس معاہدہ ایوب خان کے دورمیں ہوا تھا اس معاہدے کی شقیں طے کر نے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستان سے جس بیوروکریٹ کو ذمہ داری سونپی گئی ا س کا نام جی معین الدین تھا چونکہ ورلڈ بینک اس معاہدے کا ضامن تھا، لہٰذا جی معین الدین دو اڑھائی سال امریکہ میں رہے۔ اسی دوران بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کی ملی بھگت سے ایک خوبرو امریکی دوشیزہ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ان کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔جی معین الدین امریکی دوشیزہ کی زلف گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ بڑھاپے میں اس سے بیاہ رچا لیاا س طرح جی معین الدین کے تمام کام کی دیکھ بھال اس خاتون نے سنبھال لی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف اپنی مرضی کی شقیں داخل کروالیںبلکہ ان شقوں پرجی معین الدین سے دستخط بھی کروالئے جن میں ایک شق یہ بھی تھی کہ بھارت سندھ، جہلم اور چناب میں سے پینے کا پانی، آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے بدلے میں چاہئے تو یہ تھا کہ جی معین الدین بھارت سے یہ شقیں بھی منواتے کہ پاکستان کو بھی ستلج، بیاس اور راوی سے پینے کے لئے ،آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی ملے گالیکن امریکن خاتون کاسحر اور Rotating Fundاپنا کام کرگیا۔ آج بھارت انہی شقوں کی بنا پر آبی دہشت گردی کرتے ہوئے ہمارا پانی روک رہا ہے اور ہمارے حصے کے دریاوں پر ڈیم بنارہا ہے۔اس معاہدے سے قبل پانی کی صورت حال کچھ اس طرح سے تھی کہ راوی میں سارا سال پانی بہتا تھااس کی وجہ سے لاہور میں زیر زمین پانی دس فٹ پر دستیاب ہو جاتا تھا، اب راوی میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح انتہائی تشویشناک گر چکی ہے۔ لاہور میں واسا کے جتنے بھی ٹیوب ویل لگے ہیں وہ کم وبیش 800فٹ گہرائی سے پانی کھینچ رہے ہیں۔

ہمارے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے کہ بھارت نے کشن گنگا کا کیس جیتا اور وہاں ڈیم بنا لیا۔ بھارت نے عالمی عدالت میں ہمارے دریاؤں پر حق جتانے کے لئے یہ جواز پیش کیا ہے کہ پاکستان تو ڈیم بنانا ہی نہیں چاہتااور پاکستان کی ڈیموں کی تعمیر میں عدم دلچسپی کی وجہ سے لاکھوں بلین گیلن پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ دوسری طرف یہ صورت حال ہے کہ پاکستان میں جو ڈیم موجود ہیںا ن میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے، یعنی ان ڈیموں میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ بھارت کے پاس 120 دن تک کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ پاکستان کی نسبت جاپان کا رقبہ پاکستان کے مجموعی رقبے سے آدھا ہے اور آبادی بھی بارہ کروڑ ہے۔ جاپان میں ایک اندازے کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ ان ڈیموں کے ذریعے نہ صرف سیلابی پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے بلکہ سستی بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ جاپان اس وقت ہائیڈرو پاور سے بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پانی سے پیدا کی جارہی ہے۔ ہم اپنے حکمرانوں سے کہنا چاہئیں گے کہ خدارا اب تو بیدار ہو جاؤ مجرمانہ غفلت اور منافقت ترک کرکے اس ملک کی بقا کا سوچو۔ ڈیموں پر سیاست کی بجائے کچھ عملی اقدامات کرو سب سے اہم ترین کالاباغ ڈیم ہے۔ اس ڈیم میں 6.1 ملین فٹ پانی سٹور کیا جاسکے گا اور یہ پورے ملک کے 50 لاکھ ایکڑ بنجر رقبے کو سیراب کرے گا۔ 5000 میگاواٹ تک بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ جب ضیاء الحق کے دور میں ڈیم کی مشینری کالا باغ پہنچا دی گئی تو پھر بھارت کا Rotating Fundحرکت میں آگیا۔ چند لوگوں نے واویلا شروع کر دیا کہ کالا باغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا، چنانچہ ڈیزائن میں تبدیلی کرکے ڈیم کی اونچائی 925 سے 915 فٹ کر دی گئی۔ میانوالی جہاں یہ ڈیم بننا ہے، سطح سمندر سے 668 فٹ بلند ہے اور نوشہرہ کی سطح سمندر سے بلندی 889 فٹ ہے۔کچھ قوم پرستوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ پنجاب سندھ کا پانی ڈکار جائے گا اور سندھ بوند بوند کو ترسے گا۔ کاش انہیں یہ بات اب بھی سمجھ آ جائے کہ اگر بھارت نے سندھو دریا کا رخ بھی موڑ دیا تو پھر سندھ کہاں سے پانی لے گا، اس تباہ کن صورت حال سے بچنے کا حل کالا باغ ڈیم، بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم سمیت سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہے۔ بدقسمتی سے کالا باغ ڈیم کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اب کوئی بڑاڈیم تعمیرنہ ہوسکے۔ اس طرح دشمن بغیرجنگ کے پاکستان کو ناکام ریاست بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ہمارے ملک کا مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے نئے ڈیموں کی تعمیر ۔۔۔۔پاکستان کی قومی سلامتی اور سالمیت کا مسئلہ ہے ضروری ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر کیلئے ہمارے تمام سیاستدان اور سٹیک ہولڈر یک دل ویک جان ہوجائیں اور کالاباغ ڈیم سمیت جہاں جہاں بھی ڈیم بنائے جاسکتے ہیں بنائے جائیں ۔

Leave a reply