fbpx

نئے الیکشن پر معاملات طے پاگئے. شیخ رشید کا دعوی

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن کے بجائے نئے الیکشن کے حوالے سے معاملات طے پاگئے ہیں۔

انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ‘ضمنی الیکشن کے بجائے نئے الیکشن پر معاملات طے پاگئے ہیں، اکتوبر میں الیکشن کی تاریخ، نئے الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کا فیصلہ قوم جلد سن لے گی۔’

انہوں نے بظاہر حال ہی میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے آصف علی زرداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘قرنطینہ والے بھی الیکشن پر مان گئے ہیں، صرف مولانا فضل الرحمٰن رہ گئے ہیں۔
شیخ رشید نے ملک کی حالیہ معاشی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر 250 کا جبکہ بجلی اور ایل پی جی میں 10 روپے کا اضافہ مارکیٹیں بند کرا دے گا۔

انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کی سیاسی ساکھ راکھ میں بدل گئی ہے، جمہوریت مذاق اور اسمبلی تماشہ بن چکی ہے۔

واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی جانب سے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اسمبلیوں کو تحلیل کردیں اور یہ عام انتخابات کے لیے ان کے مطالبے کے لیے اہم شرط ہے۔

جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کے سربراہ نواز شریف بھی چاہتے ہیں کہ ملک انتخابات کی طرف بڑھے تاہم یہ شخص (عمران) اس حقیقت کو سمجھے بغیر چیف الیکشن کمشنر کو برطرف کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، ضروری آئینی عمل کی تکمیل کے بغیر چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

رانا ثنااللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اگر انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ (ن) پنجاب میں سوئپ کرے گی اور ہم اپنی حکومت بنائیں گے۔

ساتھ ہی حکمراں اتحاد نے بھی جمعرات کو اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی آئینی مدت پوری کرے گا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اتحاد کے اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور اگلے عام انتخابات وقت پر ہوں گے۔