نئی دہلی فسادات پر پاکستانی فنکاروں کا شدید رد عمل

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر انتہاپسندوں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد اور اس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والےافرادپر پاکستانی فنکاروں نے تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے

باغی ٹی وی : نئی دہلی میں کچھ ہندو انتہا پسندوں نے متنازع شہریت قانون کے خلاف آواز اُٹھانے والے بھارتیوں پر حملہ کیا جس کے بعد سے شہرکے حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور اِس دوران اب تک کئی افراد مارے گئے ہیں جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہیں بھارت میں جاری ظلم و ستم کے خلاف ہر ایک شخص اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور ہوگیا ہے جن میں پاکستانی فنکار بھی شامل ہیں

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ان پر ہونے والے تشدد اور مسجد کی بے حرمتی پر پاکستانی فنکاروں نے بھی شدید غم و غصے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھارت کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا ہے

گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے نئی دہلی میں مسلم کش فسادات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان میں کسی نے غیرمسلم شہریوں پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی یا کسی عبادت گاہ کی جانب بری نظر سے دیکھا تو نہایت سختی سے پیش آئیں گے ہماری اقلیتیں اس ملک کی برابر کی شہری ہیں

مجھے عمران خان کو ووٹ دینے پر فخر ہے غلط ثابت ہوا توعوام سے معافی مانگ لوں گا فرحان سعید


اداکار فرحان سعید نے وزیراعظم کو ٹویٹ کیا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے لکھا یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ کو ووٹ دینے پر فخر کا اظہار کیا تھا اور ہر روز آپ کے لیے دعا کرتا ہوں دعا ہے آپ پاکستان کو ان اونچائیوں پر لے کر جائیں جس کا ہم نے خواب دیکھا ہے آمین

دنیا نئی دہلی فسادات پر نوٹس لے حمزہ علی عباسی کا مطالبہ


حمزہ علی عباسی نے بھی ٹوئٹ کیا اور اسمیں غیر مسلموں پر ظلم اور ان کے حقوق غصب کرنے کے حوالے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی


ماہرہ خان نے وزیراعظم کی اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کراتے ہوئے فخریہ انداز میں لکھا یہ میرا لیڈر ماہرہ نے عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا یہ ہمارے پاکستان کے لیڈر ہیں میں اونچی اور صاف آواز میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں

ماہرہ خان کی ٹویٹ کا ایک بھارتی شخص نے انہیں جواب دیتے ہوئے لکھا ماہرہ خان میں آپ کا بھارتی مداح ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں آپ کی بات سے متفق ہوں آپ اس وقت کہاں تھیں جب غیر مسلم خواتین کو ہر سال زبردستی شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جب مندروں کی بے حرمتی کی جاتی ہے؟


ماہرہ خان نے اس مداح کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا آپ کو میری باتوں سے اختلاف کرنے کا پورا حق ہے اور آپ کے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ اقلیتوں کے لیے اور ان تمام موضوعات پر آواز اٹھائی ہے جس پر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آواز اٹھانے کی ضرورت ہے یہ بھارت اور پاکستان کے بارے میں نہیں ہے بلکہ انسان بمقابلہ فاشسٹ سیاست کے بارے میں ہے اس کے ساتھ ہی ماہرہ خان نے دونوں قوموں کے لیے امن کی خواہش کا اظہار کیا


اداکارہ منشا پاشا نے دہلی فسادات کو خوفناک قرار دیتے ہوئے ہندو انتہا پسندوں کو دہشتگرد قرار دیا اور لکھا انڈیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اسے دیکھ کر خوف محسوس ہوتا ہے

منشا پاشا نے اشوک نگر میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں جلائی جانے والی مسجد کی تصویر شیئر کی اور لکھا اس خوفناک حرکت کے بعد سیکولر انڈیا شعلوں میں جلے گا اس کے ساتھ ہیں اداکارہ نے بھارت میں احتجاج کرنے اور اپنے حقوق کے لیے لڑنے والے افراد اور اقلیتوں کے لیے دعا کی


اداکارہ منشا پاشا نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں اشوک نگر میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں جلائی جانے والی مسجد کی تصاویر شئیر کر کے لکھا کہ سیکولر بھارت اپنی ہی لگائی گئی آگ کے شعلوں میں جل رہا ہے


اداکارہ حریم فاروق نے دہلی میں مسلمانوں پر تشدد کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا آپ کے جھنڈے تلے تقریباً 200 ملین مسلمان رہتے ہیں لہذا کس طرح بھارتی حکومت یہ سب ہونے دے رہی ہے وقت آگیا ہے بھارت میں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا

نئی دہلی فسادات پر بھارتی فنکاروں کا شدید ردعمل


اداکار یاسر حسین نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پردہلی میں جاری فسادات اور ظلم و ستم پر پڑھی گئی نظم کی ویڈیو شیئر کردی اس ویڈیو میں شاعر علی زریون دہلی میں جاری فسادات اور وہاں کے لوگوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے ایک نظم پڑھے رہے ہیں


دل کی دلی کو کس کی نظر لگ گئی؟ کون راون میرے شہر میں آگئے؟

رام کے نام پر کیسا آتنک ہے؟ گیروی آگ والے بدن کھا گئے

آج گاندھی کی نظریں نہیں اُٹھ رہیں آج نہرو کا چہرہ پریشان ہے

راکشس اپنی سرکار میں مست ہے لوگ دنگو ں کی شدت سے گھبرا گئے ہیں

مجھ سے سیتا نے سوگند کھا کر کہا یہ فسادی ہیں یہ رام والے نہیں

کتنے گھر اِن کے ہاتھوں کھڈل بن گئے کتنے پھول اِن کی دہشت سے گُھملا گئے

وہ زبانیں کہ جو آج خاموش ہیں مت یہ سمجھیں سُرکشت ہیں نِردوش ہیں

آج بولو نہ مگر مرو گے سب ہی پھر نہ کہنا شکنجے میں کیوں آگئے

لاٹھیاں کھانے والوں سلامت رہو گولیاں کھانے والوں سلامی تمہیں

تم نے اپنے لہو سے لکھ دیا کون ظالم ہے تم سب کو سمجھا گئے

دل کی دلی کو کس کی نظر لگ گئی؟ کون راون میرے شہر میں آگئے؟

یاسر حسین نے علی زریون کی اِس نظم کے کیپشن میں لکھا کہ ’دل کی دلی۔‘

نئی دہلی مسلم فسادات پر بالی وڈ شخصیات کی شدید مذمت


اداکار نے خوبصورت نظم پڑھنے پر علی زریون کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لکھا آج انڈیا میں جو حالات ہیں ،دہلی میں جو ہوا، انسانیت پر ہونے والے مظالم اور وہاں اور حالات کی خوبصورت عکاسی کی گی ہے اس نظم میں یاسر نے لکھا جیتے رہو زریون

جبکہ یاسر کی اس پوسٹ پر ہندوصارفین نے شدید رد عمل دیتے ہوئتطتنقید کا نشانہ بنایا جن کو پاکستانی صارفین نے بھی غنم و غصے سے آئینہ دکھایا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.