fbpx

این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتا تو اس ادارے کا مقصد کیا ہے؟ سوال اٹھ گئے

این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتا تو اس ادارے کا مقصد کیا ہے؟ سوال اٹھ گئے

سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کا اجلاس ہوا

حکام نے کمیٹی کو وزارت کے کام سے متعلق بریفنگ دی ،بیرون ملک سے آنے والی امداد پر کمیٹی اراکین نے وزارت سے سوال کیا اور کہا کہ بیرون ملک سے آنیوالی امداد کس طریقے سے آرہی ہے ؟ حکام نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد جو کیش میں ہو وہ وزیراعظم ریلیف فنڈز میں جمع ہوگی بحرین نے ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا این ڈی ایم اے نے کہا میں نہیں لے سکتا،این ڈی ایم اے کے انکار پربحرین سے ملنے والے فنڈ کو آرمی فنڈ میں ڈالنا پڑا، سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ اگر این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتا تو اس ادارے کا مقصد کیا ہے،ایڈیشنل سیکرٹری نے کہا کہ چین نے 400 ملین آر ایم بی سیلاب متاثرین کو دینے کا اعلان کیا ،اگر کیش کوئی ملک دے گا تو وہ وزیراعظم ریلیف میں جائے گا یا آرمی فنڈز میں جائے گا،منظور کاکڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی طرف سے 1ملین ڈالر نہ لینے پر افسوس ہوا،

سیلاب متاثرین کی مدد، یو اے ای بازی لے گیا، سب سے زیادہ امدادی پروازیں

این ڈی ایم اے کے معاملات میں گڑ بڑ،رپورٹ کچھ، زمین حقائق کچھ، چیف جسٹس نے کیا حکم دے دیا؟

جوائنٹ سیکریٹری وزارت اقتصادی امور نے کہا کہ ہم ان این جی اوز کو ڈیل کررہے ہیں جو انٹرنیشنل فنڈنگ لیتے ہیں ،کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ این جی اوز جن کو بیرونی فنڈنگ ملتی ہے اس کی تفصیل کمیٹی کو فراہم کریں،،جوائنٹ سیکریٹری وزارت اقتصادی امور نے کہا کہ 16ہزار این جی اوز پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں ایک ہزار این جی اوز کو غیر ملکی فنڈنگ ملتی ہے اور وہ وزارت اقتصادی امور میں رجسٹرڈ ہیں این جی اوز کے حوالے سے نئی پالیسی بن گئی کابینہ کو بھیج دی ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد نئی پالیسی نافذ ہوجائے گی،

مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.