fbpx

این ڈی ایم اے کے معاملات میں گڑ بڑ،رپورٹ کچھ، زمین حقائق کچھ، چیف جسٹس نے کیا حکم دے دیا؟

این ڈی ایم اے کے معاملات میں گڑ بڑ،رپورٹ کچھ، زمین حقائق کچھ، چیف جسٹس نے کیا حکم دے دیا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں کرونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

سپریم کورٹ نے آکسیجن سلنڈرز کی قیمت مقرر کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ وزارت صنعت و پیداوار دو دن میں آکسیجن سلنڈر کی قیمت کا تعین کرے، آکسیجن سلنڈرز کی قیمت کے تعین کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے ،چیئرمین این ڈی ایم اے سپریم کورٹ میں پیش میں ہوئے، چیف جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین این ڈی ایم سے سوال کیا کہ آپ نے حاجی کیمپ والے قرنطینہ سینٹر کا دورہ کیا ؟وہاں پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے لیکن وہاں پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، رپورٹ کی صورت میں دستاویز دیا جاتا ہے ، زمینی حقائق کچھ اور ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ آپ ذاتی حیثیت میں تمام قرنطینہ سینٹرز کا دورہ کریں،تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کہ جائے،ملک بھر میں آکسیجن کی قیمتوں سے متعلق 2دن میں رپورٹ پیش کی جائے،

عدالت نے ملک میں کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی ملک بھر میں میڈیکل آلات اور ادویات کی کیا صورتحال ہے؟ رپورٹ دی جائے اسٹیل ملز سے آکسیجن حاصل کرنے کے حوالے سے متعلق وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی گئی ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات میں گڑ بڑ ہے، ایک کمپنی سے این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی، فیکٹری کیلئے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی ادائیگی نقد کی گئی، چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی،چین میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟ کیا چین میں پاکستانی سفارتخانہ خریداری کیلئے استعمال ہوتی ہے؟چارٹرڈ جہاز بھی سفارتخانے کے ذریعے ہی کروایا گیا، کیا چین میں پاکستانی سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ عدالت نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی، چیف جسٹس نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے پاس اربوں روپے آرہے ہیں کچھ پتہ نہیں رقم کہاں لگ رہی؟ چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ میں نے کچھ عرصہ قبل چارج سنبھالا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم آپ نے چارج کب لیا؟ عدالت نے این ڈی ایم اے سے قرنطینہ سینٹرز سے متعلق رپورٹ طلب کر لی

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا نہیں معلوم، ہر چیز میں این ڈی ایم اے کا ذکر ہے،چار پانچ مرتبہ آرڈر دیا تو کچھ دستاویزات دی گئیں، اب ان دستاویزات کا بھی معلوم نہیں یہ کیا ہیں،

میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

کرونا اس لئے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے، چیف جسٹس

کرونا از خود نوٹس کیس، سماعت کل تک ملتوی، تحریری حکمنامہ جاری

سرکاری کٹس سے ٹیسٹ مثبت،پرائیویٹ سے منفی کیوں؟ چیف جسٹس نے بھی اٹھائے سوالات

پاکستان میں یہ بہت بڑا مافیا ہے،حکومت میں فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں، چیف جسٹس

اسٹیل مل آکسیجن پلانٹ فعال کرنیکے لئے کتنی رقم چاہیئے؟ حکومت نے سپریم کورٹ میں بتا دیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.