fbpx

نیب کا سیکشن 31-A مجھ پر نہیں بلکہ خود چیئرمین نیب پر لاگو ہوتا ہے،سعید غنی

وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ نیب کا سیکشن 31-A مجھ پر نہیں بلکہ خود چیئرمین نیب پر لاگو ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک ویڈیو پر بلیک میل ہوکر تمام اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں اور کیسز پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ میں پیر کی صبح نیب کراچی کے دفتر میں اکیلا جائوں گا اور ساتھ کچھ کپڑے لے جائوں گا تاکہ نیب کی دوسری پریس ریلیز میں جو تحقیقات کے نام پر مجھے ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے اس کی مجھ سے وہ تحقیقات کریں۔
ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جس ویڈیو کی وجہ سے چیئرمین نیب موجودہ نااہل، نالائق اور سلیکٹیڈ حکومت کے ہاتھوں بلیک میل ہورہا ہے وہ ویڈیو حلیم عادل شیخ کے پاس ہے کیونکہ اس کی گرفتاری اور اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر چیئرمین نیب سمیت تمام نیب اچھل پڑی ہے۔
چیئرمین نیب قوم کو بتائیں کہ انہوں نے شوگر اسکینڈل، گندم اسکینڈل، پیٹرول پرائس اسکینڈل، ادویات اسکینڈل پر کون سی تحقیقات کی ہیں اور مختلف کمیشن کی رپورٹس کے باوجود اس میں جو پی ٹی آئی کے اے ٹی ایمز ملوث پائے گئے ان کے خلاف کون سے کیسز نیب میں دائر کئے ہیں۔

اس وقت چیئرمین نیب کے پاس کچھ نہیں تاہم حکومت کے پاس ان کی ویڈیو ہے۔ ایم کیو ایم ملکی سیاست سے فارغ ہوچکی ہے اور ان کا طرز سیاست آج بھی الطاف حسین کے طرز سیاست کی طرح ہے اور وہ لسانی اور تعصبانہ سیاست کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سعید غمی نے کہا کہ یکم جولائی کو کراچی میں سید ناصر حسین شاہ اور میں نے ایک پریس کانفرنس میں مختلف اشیوز پر بات کی اور اس میں ہم نے ہمارے پاس آنے والے نیب کراچی کے ایک خط جس میں نیب ہیڈ کواٹر سے سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی زمینوں پر قبضوں کی شکایات رپورٹ کی روشنی میں ان کے خلاف تحقیقات کا کہا گیا تھا ہم نے مطالبہ کیا کہ جس طرح اپوزشن کے رہنمائوں کو ابتدائی اسٹیج پر گرفتار کیا جاتا ہے، نیب فوری طور پر حلیم عادل شیخ کو گرفتار کرے اور اس کا نام ای سی ایل میں شامل کرے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ مجھے امید نہیں ہے کہ نیب اس طرح کی کوئی کارروائی کرے گی .