fbpx

نیہا لاج کی فلم چوہدری کی سانگ لانچنگ شدید بدنظمی کا شکار

نیہا لاج کی فلم چوہدری کی گزشتہ رات لاہور میں سانگ لانچنگ تھی، فلم کی مرکزی کاسٹ سے صرف ارباز خان اور چوہدری اسلم کا کردار ادا کرنے والے ڈی ایس پی طارق اسلام موجود تھے۔ یاسر حسین ، شمعون عباسی، ثنا فخر جیسے فنکاروں کی تقریب میں شرکت نہ ہونے کے باعث تقریب کے رنگ بھیکے رہے۔ جس گانے کی لانچنگ تھی اسکا نام تھا قمیض تیری کالی سوہنے پھلاں والی اس گیت کو گانے والے گلوکار عطا اللہ بھی تقریب میں موجود نہ تھے۔میڈیا توقع کررہا تھا کہ عطا اللہ عیسی خیلوی ہوں گے( کیونکہ انہوں نے فلم میں اس گانے پر پرفارم بھی کیا ہے) لیکن جب ان کو کال کی گئی تو پتہ چلا کہ شاید وہ اس تقریب کے حوالے سے آگاہی نہیں رکھتے۔دوسری طرف تقریب کے دوران ایکدم بھاگم دوڑ ہوئی پتہ چلا کہ ہال میں موجود ایک شخص آٹھ سال کی بچی کو واش روم میں بلارہا تھا کافی دیر بچی کو یہ بات کہتا رہا بچی نے آخر کار تنگ آکر اپنی والدہ کو بتایاکہ ماما وہ انکل مجھے واش روم میں بلا رہے ہیں، جب بچی کی والدہ اور والد اس لڑکے کی طرف بڑھے تواس لڑکے نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ہال کے دروازے سے پکڑا گیا اس دوران بچی ڈری سہمی ہوئی زارو قطار رو رہی تھی اس واقعہ کے بعد تقریب سے لوگ اٹھ کر جانا شروع ہو گئے اور بچی کے

ساتھ ہمدردی کی گئی وہ بچی فلم کی پرڈیوسر نیہا لاج کی بہن کی بیٹی تھی۔یہ ناخوشگوار واقعہ تقریبا ایونٹ کے آخر میں ہوا اس سے پہلے تو جن مہمانوں کو بلا رکھا تھا وہ لوگ پرڈیوسر کاسٹ اور مہمان خصوصی کے طور پر آئے لوگوں کی باتیں سننے کے بعد کھانے کے منتظر رہے پہلے بولا گیا کھانا لگ گیا ہے سب جب کھانے کی طرف ہوئے تو آگے خالی برتن ملے، وہاں موجود لوگوں نے خاصی شرمندگی محسوس کی اور یوں کچھ لوگ اٹھ کر چلے گئے، باقی کچھ لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے اب ان میں سے بھی اٹھ کر جانے والوں کا شاید انتظار کیا جا رہا تھا،آٹھ بجے سے شروع ہوا ایونٹ رات گیارہ بج گئے، فلم کے دو گانے بار بار چلائے جاتے رہے، لیکن کھانے کا کچھ پتہ نہیں تھا، اسی دوران صرف سید نور کے آگے کھانا رکھا گیا حسن عسکری ، پرویز کلیم و دیگر موجود تھے ان کو نہ پوچھا گیا حسن عسکری سراپا احتجاج دکھائی دئیے انہوں نے کہا کہ میرے پچاس سالہ کیرئیر میں آج میں نے جتنی بے عزتی محسوس کی ہے شاید ہی کبھی کی ہو، سید نور کے آگے کھانا رکھنا ایشو نہیں ہے لیکن ایسا کرنا یہاں موجود لوگوں کی توہین ہے۔ جب میڈیا کے چند دوستوں نے پتہ کروایا کہ کھانا کیوں نہیں کھولا جا رہا تو پتہ چلا کہ پے منٹ کا ایشو ہے، اللہ اللہ کرکے کھانا کھولا ہی گیا تو وہ بھی کم تھا۔ تقریب میں ہر حوالے سے انتہا درجے کی بد نظمی دیکھی گئی،جو میڈیا رپورٹرز سب سے پہلے آئے تھے وہ ہال میں بیٹھے ہوئے تھے وہ جن ٹیبلز پر بیٹھے ہوئے تھے ان سے کہا گیا کہ یہاں نہیں بیٹھ سکتے یہ مہمانوں کے لئے ہے میڈیا کے لوگوں کی گرمی سردی ہوئی انہوں نے کہا کہ ہم کون ہیں؟ کہا گیا آپ بے شک میڈیا سے ہیں لیکن آپ باہر اٹھ کر جائیں پھر دوبارہ ہال میں بلایا جائیگا آپکو۔ اس طرح کی صورتحال نے ایونٹ کی خوبصورتی کو بگاڑ کر رکھ دیا سب کا یہی کہنا تھا کہ جس طرح سے یہ ایونٹ مینج کیا گیا اس طرح تو کبھی ہوا ہی نہیں