fbpx

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کو جلد از جلد بحال کیا جاۓ،شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کو جلد از جلد بحال کیا جاۓ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 969 میگا واٹ بجلی کے حامل نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے میں فنی خرابی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہیں اس خرابی کی نوعیت اور بحالی کے کام پر پیش رفت سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

گدوپاورپلانٹ مکمل جل کرراکھ بن گیا،قومی خزانےکو20 ارب روپےکا نقصان

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کئ ساڑھے 3 کلومیٹر طویل ٹیل ریس واٹرٹنل ( Tailrace Water Tunnel) کی بندش کے باعث پاور ہاؤس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی، اور یوں بد قسمتی سے حالیہ شدید گرمی کے موسم میں قومی گرڈ 969 میگا واٹ سستی اور ماحول دوست پن بجلی سے محروم ہو گیا۔

وزیر اعظم نے واقعے کا سخت نوٹس لیا، اورمتعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ واقعے کی فوری طور پر مستند عالمی اداروں سے انکوائری کرانے کے ساتھ ساتھ پلانٹ کی بحالی کا کام جلد از جلد مکمل کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروۓ کار لاکر عوام کو جلد از جلد ریلیف پہنچانے کے احکامات جاری کیے۔

 

آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ بہت جلد متوقع

 

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے کمپنیز کی پری کوالیفیکیشن اور تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کا موثر نظام لا رہے ہیں۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی، وزیر توانائی انجینئیرخرم دستگیر، وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

قبل ازیں ایک طرف قوم عیدالاضحیٰ کی خوشیاں منارہی تھی تو دوسری طرف عملے کی نااہلی کی وجہ سے گدوپاورپلانٹ مکمل جل کرراکھ بن گیا،اس حوالے سے تخمینہ لگانے والوں کا کہنا ہے کہ قومی خزانےکو20 ارب روپےکا نقصان ہو گیا۔

گدوپاورپلانٹ میں اس بڑے حادثے کے حوالے سے ذرائع کاکہناہےکہ عید کی رات گدو پاور پلانٹ میں آگ لگنے سے747 میگا واٹ بجلی سسٹم سےنکل گئی،ذرائع کا کہنا ہےکہ آتشزدگی سے گدو پاور پلانٹ مکمل طور پرجل گیا جس کی بحالی میں کئی ماہ لگ سکتےہیں۔واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جس وقت آگ لگی گدو پاور پلانٹ میں آگ بجھانے کے آلات نہیں تھے، اس وقت عملہ بھی ڈیوٹی پر نہیں تھا، 3 گھنٹے کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا جاسکا تھا۔کیا آگ لگانے والے آلات سرے سے ہیں ہی نہیں‌یا پھروقتی طورپرمل نہ سکے یہ بھی ایک حساس معاملہ ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیں

ذرائع کے مطابق عید سے ایک روز قبل نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ بھی فنی خرابی کے باعث بند ہو گیا تھا۔دوسری طرف سینئر انجینئر گدو پاور پلانٹ کا کہنا ہے کہ طوفانی بارش سے جنریٹرز میں پانی چلا گیا، یہ اتفاقی حادثہ تھا تاہم واقعے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پلانٹ بحال ہونے میں ایک ماہ کا وقت لگے گا، نقصان اتنا نہیں ،جتنا بتایا جا رہا ہے، واقعے کے ذمہ داران کا تعین بھی کیا جائے گا۔