fbpx

نیو یارک میں بھی لوگوں کو بعداز مرگ قدرتی کھاد میں تبدیل کروانے کی اجازت مل گئی

امریکی ریاست نیو یارک میں بھی لوگوں کو مرنے کے بعد خود کو قدرتی کھاد میں تبدیل کروانے کی اجازت مل گئی

امریکی ریاست نیو یارک میں بھی لوگوں کو مرنے کے بعد خود کو قدرتی کھاد میں تبدیل کروانے کی اجازت مل گئی ہے. برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن سمیت دیگر ریاستوں کی طرح نیویارک میں بھی ریاستی گورنر کیتی ہوکول کی اجازت سے کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے جسم کو قدرتی کھاد میں تبدیلی کا قانون پاس کرلیا گیا ہے جس کے تحت مرنے والے کی تدفین دفنا کر یا جلانے کے بجائے کھاد میں تبدیلی کے ذریعے کروائی جاسکے گی۔


انتقال کے بعد کسی انسانی جسم کے کھاد میں تبدیلی کے عمل کو ’قدرتی نامیاتی تخفیف ‘ سے جانا جاتا ہے ، اس عمل کے دوران مرنے کے بعد انسان کے جسم کو ایک کنٹینر میں مخصوص مرکبات کے ساتھ کم ازکم ایک ماہ تک رکھا جاتا ہے جس کے ذریعے انسانی جسم قدرتی مٹی میں تبدیل ہوجاتا ہے. بعد ازاں اس مٹی کو اس کے پیاروں کو دیا جاتا ہے جو کہ پودوں ، درختوں اور سبزیاں اگانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ 
مزید یہ بھی پڑھیں؛
دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
 رپورٹ کے مطابق ا س عمل کو انسان کی آخری رسومات یا تدفین کے لیے مٹی میں دفن کرنے کے مقابلے زیادہ ماحول دوست قرار دیا جاتا ہے۔ نیویارک چھٹی امریکی ریاست ہے جہاں انسانی جسم کے مرنے کے بعد کھاد میں تبدیلی کی اجازت دی گئی ہے ، واشنگٹن امریکا کی پہلی ریاست تھی جہاں 2019 میں قدرتی نامیاتی تخفیف کو قانونی حیثیت دی گئی تھی۔