fbpx

نیوزی لینڈ ٹیم کا دورہ منسوح اور پاکستان دشمنوں کی کامیاب چال تحریر ہارون خان جدون

نیوزی لینڈ ٹیم 18 سال بعد 3 ون ڈے اور پانچ ٹی ٹیونٹی میچ کھیلنے کے لئے 11 ستمبر کو پاکستان آئ ہوئی تھی جبکہ ٹیم کی آمد سے قبل نیوزی لینڈ کے بہترین سیکورٹی کے ماہرین نے پاکستان کا دورہ کیا اور سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا اور حکومت کو اس حوالے سے اوکے کی رپورٹ دی جس کے بعد ٹیم پاکستان پنچی اور اس نے پنڈی میں اپنے پریکٹس میچ کھیلنے شروع کئے جبکہ ایک روز قبل ٹرافی کی تقریب رونمای بھی بھی منعقد ہوئی لیکن گزشتہ روز عین میچ شروع ہونے سے دو گھنٹے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم نے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی دفعہ اچانک گراؤنڈ میں نہ جانے کا فیصلہ کیا جس کا جواز اپنی حکومت کی جانب سے پاکستان میں سیکورٹی خطرات کو قرار دیا, اس اچانک فیصلے پر پاکستانی حکام ششدر رو گے، تاجكستان کے شہر دوشنبے میں موجود وزیراعظم پاکستان عمران خان نے غیر معمولی طور پر معاملہ میں خود مداخلت کرتے ہوے اپنی کیوی ہم منصب سے رابطہ کیا اور انہیں سیکورٹی کے حوالے سے بہترین فول پروف انتظامات کی یقین دہانی کروائی لیکن نیوزی لینڈ حکومت دورہ پاکستان کو یوں بیچ چوراہے میں چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی سو انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا اور زراہع کے مطابق ان سطروں کی اشاعت یا اس کے فوری بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان سے روانہ ہو ہو گی، اپنی نوعیت کے اس انوکھے واقعہ نے pakistan کو تو نقصان پنچایا ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ نہاد آزاد خودمختیار باوقار اور اصول پسند ہونے کے دعویدار نیوزی لینڈ کو بھی ننگا کر کے رکھ دیا ہے

جس کے درجنوں سفارتکار پاکستان میں پرامن اور پر سکون انداز میں اپنی سفارتی خدمات سرانجام دے رے ہیں جس میں امریکہ اور اس اس کے ساتھ افغانستان سے شرمندگی و ذلت اٹھا کر ذلیل و رسوا ہو کر افغانستان سے فرار ہونے کے بعد پاکستان میں پناہ کے لئے بھیڑ بکریوں کی طرح جہازوں میں پاکستان آنیوالوں نے پاکستان کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جو کہ یقینی طور پر پاکستان کے ازلی دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے لیکن اس سب کے باوجود مملكت خداداد پاکستان اور اس کے شہری اپنے ملک کی عزت و وقار کی خاطر تمام سیاسی و گروہی اختلافات بھلا کر ایک ہیں، لیکن نیوزی لینڈ جیسے احسان فراموش ملكوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کے اگر آج انہوں نے پاکستان نے اپنے دشمنوں کی ایماء پر نیچ حرکت کی ہے تو پاکستان انشاءاللّہ اس کا جواب اپنے انداز میں اپنے وقت پر دے گا، ملكی اور خود مختاری کا یہی تقاضہ ہے کے قوم کا ہر فرد چائے اسکا کرکٹ کے ساتھ کوئی لگاؤ ہے یا نہیں وہ نیوزی لینڈ کی اس حرکت پر سخت دل گرفتہ ہے اور اس وقت حکومت pakistan کے ساتھ ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کے حکومت پاکستان کو عوامی جذبات و احساسات کی بھرپور مکمل ترجمانی کرتے ہوے سخت اور ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے کیوں کہ پاکستان کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!