fbpx

وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد :اسپیکرنے اپنا فیصلہ سنا دیا

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد :اسپیکرنے اپنا فیصلہ سنا دیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری 25 اکتوبر کو ہو گی۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت ہواجس میں وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔

رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جس کی 65 ارکان پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کے 33 ارکان نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی حمایت کی۔

قرارداد پر بحث کے بعد اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کیلئے پیر 25 اکتوبر کا دن مقرر کردیا۔اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری 25 اکتوبر کو دن 11 بجے ہوگی۔

یہ بھی یاد رہے کہ جام کمال کیخلاف عدم اعتماد تو پیش کردی گئی ہے مگرحیرانی اس وقت بڑھی جب جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کرنے والے اپوزیشن اتحاد پراپنے ہی ساتھیوں نے عدم اعتماد کرکے اپنے اپ کوقرنطینہ کرلیا ہے

اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایوان سے 5 ارکان اسمبلی لاپتہ ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں شروع ہوگیا ہے جس میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔

کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔

تحریک عدم اعتمادپیش کیے جانے کے بعد خطاب میں بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک سکندر نے دعویٰ کیا کہ ہم سب کو اس ایوان کے تقدس کو بحال کرنا ہے، ایوان سے پانچ اراکین اسمبلی مسنگ اور گرفتارہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ اراکین مسنگ ہیں، سب کو آئینی اور جمہوری حق استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔قائد حزب اختلاف ملک سکندر نے اسپیکر سے مسنگ اراکین کو ایوان میں لانے کا حکم دینے کی استدعا کی۔

اس سے پہلے حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما ظہور احمد بلیدی کا کہنا تھا کہ 36 ممبر شو کر دئیے، 65 کے ایوان میں 40 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ ملک سکندر، اسد بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے بھی وزیراعلیٰ جام کمال کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔ 65 ارکان کی بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے لیے 33 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے