fbpx

"برطانیہ سمیت کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ فلسطینیوں کودہشت گرد قراردے”:حماس

صنعا:اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے اعلان کیا ہے کہ جماعت نےبرطانیہ کی طرف سےدہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کا قانونی اور سیاسی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے اندرون اور بیرون ملک متعدد سیاسی اور قانونی اقدامات کیے ہیں۔

"حماس” کے سیاسی بیورو کے رکن زکریا ابو معمر نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں کی طرف سے "مزاحمت ایک جائز حق ہے” کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ قابض ریاست دنیا کی دہشت گرد ریاست ہے”

ابو معمر نے کہا کہ جمعہ کی شام سے ہم نے دنیا بھرکے سرکاری، تنظمی اور سول اداروں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ ہمارے لوگوں کے خلاف اس خطرناک فیصلے کے حوالے سے ہر ایک کو اس کی ذمہ داریوں کے سامنے رکھا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ان ممالک سے مطالبہ کیا جو ہمارے عوام کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں اور ہمارے فلسطینی کاز کی وکالت کرتے ہیں کہ وہ برطانوی حکومت پر فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور اس کی حکومت ایک بار پھر فلسطینی عوام کے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ تاریخی گناہوں کو درست کرنے اور بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے ایسا برتاؤ کر رہی ہے جیسے وہ ابھی تک فلسطین پر قابض ہے۔

ابو معمر نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ منحوس بالفور اعلامیہ کے لیے معافی مانگ کر اس خطرناک فیصلے کو واپس لے کر اور آئندہ رائے شماری کے دوران اسے پارلیمنٹ میں چھوڑ کراپنے تاریخی جرائم کو فوری طور پر درست کرے اور ان کا ازالہ کرے۔

 

ادھر دوسری طرف فلسطینی وزارت خارجہ نے اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کو دہشت گرد تنظٰیم قرار دینے کا فیصلہ ظالمانہ اور بلا جواز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور ان کے برطانوی ہم منصب کے درمیان ملاقات کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔

فلسطینی  وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ فیصلہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں مزید رکاوٹٰیں کھڑی کرے گا اور غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو میں رکاوٹ پیدا کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت دہرے معیار پر کام کررہی ہے۔ برطانوی حکومت کو فلسطینیوں کے خلاف د

دوسری طرف سخت ردعمل دیتے ہوئے فلسطینی قانون ساز کونسل کے اسپیکر عزیز دویک نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کو برطانیہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قراردینے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک کو مجرم قرار دینے کے برطانوی فیصلے کو فلسطینی عوام کے خلاف حد سے زیادہ جرم قرار دیا۔

دویک نے ایک پریس بیان میں کہا کہ برطانوی فیصلہ بین الاقوامی اتفاق رائے کے خلاف  ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کو تمام دستیاب ذرائع سے اپنی سرزمین اور وطن کی آزادی کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نےکہا کہ برطانیہ اب بھی فلسطینی عوام کے خلاف جرائم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ وہی برطانیہ  ہے جس کی وجہ سے  فلسطینی قوم آج بےگھر اور مصائب کا شکار ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!