fbpx

آکسیجن نہیں مل رہی:ہرطرف چیخ وپکارہے:ریاستیں تعاون نہیں کررہیں:بھارت کوٹوٹتےہوئےدیکھ رہاہوں:اہم شخصیت

نئی دہلی: آکسیجن نہیں مل رہی:ہرطرف چیخ وپکارہے:ریاستیں تعاون نہیں کررہیں:انسان مررہاہے،بھارت ٹوٹ رہاہے ،اطلاعات کےمطابق کرونا بھارت کے لیے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک بن گیا:ہرطرف لاشیں ہی لاشیں،کرونا مریض سڑکوں کے کنارے مرنے لگے:

اطلاعات کے مطابق مودی کی وجہ سے بھارت کورونا کا جہنم بن گیا، صورتحال بے قابو ہو چکی، ہسپتالوں میں آکسیجن کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب، بھارت کرونا پھیلاو کے حوالے سے دنیا کا سب سے خطرناک ملک بن گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کی وبا سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے جہاں آج کے دن ریکارڈ 3 لاکھ 35 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوگئے جبکہ مجموعی طورپرپچھلے چاردنوں میں کرونا کیسزکی تعداد ساڑے بارہ لاکھ سے تجاوزکرگئی ہے ، دوسری طرف بھارت سمیت عالمی دنیا نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے دنیا کے کسی بھی ملک میں رپورٹ ہونے والے یومیہ کیسز کی تعداد اتنی نہیں رہی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی حکومت کے آن لائن ڈیٹا بیس نے بتایا کہ دو تہائی سے زیادہ ہسپتالوں میں خالی بستر نہیں ہیں اور ڈاکٹروں نے مریضوں کو گھر پر ہی رہنے کا مشورہ دیا ہے۔مغربی شہر احمد آباد میں میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر کرت گڈھوی نے بتایا کہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔کورونا کے مریض ہسپتالوں میں بستر کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

بھارت نے کورونا کے ایک دن میں سب سے زیادہ نئے کیسز کے معاملے میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ متاثرین کے لیے انتہائی ضروری آکسیجن گیس کی قلت پیدا ہوگئی اور کالابازاری بھی شروع ہوگئی ہے۔

وزارت صحت کے حکام نے 22 اپریل جمعرات کی صبح کورونا وائرس سے متاثرہ نئے افراد کے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں اس کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 3 لاکھ 35 ہزارافراد متاثر ہوئے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک دن کے اندر اتنی بڑی تعداد میں لوگ متاثر نہیں ہوئے تھے۔

یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں جبکہ بعض آزاد ذرائع کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی کیونکہ ایک تو ٹیسٹ کی سہولیات کم ہیں دوسرے اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے اس لیے بہت سے لوگوں کا گھروں میں ہی انتقال ہو جا رہا ہے۔ بیشتر ہسپتال ایسے مریضوں کی موت کے سرٹیفکٹ پر کورونا لکھنے سے بھی گریز کرتے ہیں جس سے اصل تعداد کا معلوم ہونا بڑا مشکل ہے۔پرائیوٹ ہسپتالوں میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کا بھی کوئی درست ریکارڈ نہیں رکھا جارہا ہے۔

ویسے توپورے بھارت میں ہرطرف تباہی ہی تباہی نظرآرہی ہے ، کرناٹک میں‌توصورت حال اس قدر خراب ہے کہ مریض سڑکوں کے کنارے تڑپ تڑپ کرمررہے ہیں اورکوئی ان کوپوچھنے والا نہیں ہے

انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر آکسیجن کی شدید قلت ہے۔امریکا میں جنوبی کیرولائنا کی میڈیکل یونیورسٹی اسسٹنٹ پروفیسر کرتیکا کپپلی نے ٹویٹر پر کہا کہ یہ بحران صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے خاتمے کا باعث ہے۔امریکا میں جنوری میں ایک دن میں 2 لاکھ 97 ہزار 430 کورونا سے متاثرہ مریضوں کا اضافہ ہوا تھا۔وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں اب مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

حکام کے مطابق کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران تین ہزارکے لگ بھگ افراد ہلاک ہوگئے اس طرح ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد دولاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے

شمشان گھاٹوں پرلاشیں رکھنے کی جگہ نہیں ، گھروں کے گھرلٹ گئے کوئی میت کوگھرسے نکالنے والانہیں ہے

بھارت بھرکی صورت حال اپنی جگہ تباہ حال مگردارالحکومت نئی دہلی میں اسپتالوں میں بیڈز اور آکسیجن نہیں مل رہی اورلوگ تڑپ تڑپ کرجان دے رہے ہیں

 

کورونا وائرس سے اتنی زیادہ تعداد میں اموات ہو رہی ہیں کہ شمشان گھاٹوں میں آخری رسومات کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بعض مقامات پر قبرستانوں میں جگہ کم پڑ جانے کے باعث اجتماعی تدفین کی جا رہی ہے

 

 

دہلی کے سب سے بڑے شمشان گھاٹ نگم بودھ گھاٹ کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ وہاں لکڑیوں سے لاشوں کو جلانے کے لیے بائیس پلیٹ فارم اور سی این جی سے چلنے والی چھ بھٹیاں ہیں۔ یہاں کام کرنے والا 70 سے زائد افراد پر مشتمل عملہ دن رات لاشیں جلانے میں مصروف ہے

 

نئی دہلی میں ایک ہی روز میں 28 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہونے پر وزیرِاعلیٰ نے وفاقی حکومت سے مدد کی اپیل کر دی ہے۔

دارالحکومت میں کرونا کے بڑھتے کیسز کے باعث لوگ اسپتالوں میں بستروں، آکسیجن سلنڈروں اور ادویات کی کمی کی شکایات بھی کر رہے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ اروند کیجری وال نے اتوار کو کہا ہے کہ شہر میں دو کروڑ سے زائد لوگوں کے لیے 100 سے بھی کم انتہائی نگہداشت کے بیڈز باقی بچے ہیں۔

انہوں نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ تشویش کی بات یہ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 24 فی صد سے بڑھ کر 30 فی صد تک ہوگئی ہے۔

ان کے بقول کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اسپتال مریضوں سے بھر رہے ہیں۔

دوسری جانب شہری حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے مرکزی حکومت کو ‘بیڈز اور آکسیجن کی اشد ضرورت’ سے آگاہ کر دیا ہے جب کہ اب اسکولوں میں بستروں کا انتظام کیا جارہا ہے۔
دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بھارتی فوج بھی اس کی پکڑمیں آئی ہوئی لیکن بھارتی فوج میں کرونا کی تباہی کے اعدادوشمارکومیڈیا پرلانے سے روکا جارہاہےاورکہا جارہا ہےکہ بڑے بڑے فوجی افسران بھی جاں بحق ہوچکےہیں

ادھر ماہرین نے خبردارکیا ہےکہ کرونا بم نے جوتباہی اس وقت بھارت میں پھیلا رکھی ہے اگربھارت میں ایٹم بم گرایا جاتا توشاید اتنی تباہی نہ ہوتی جتنی کرونا وائرس نے بھارت کے گھر گھرمیں تباہی پھیلا دی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.