fbpx

کوئی بھی پاکستانی امارات کرکٹ لیگ میں جگہ نہ بناسکا،انڈین کا غلبہ

کراچی: امارات کرکٹ لیگ کیلیے پاکستانی کرکٹرزکو این او سی نہ مل سکا،2 نے باضابطہ درخواست کی جسے مسترد کر دیا گیا، دیگر نے یہ دیکھ کر بورڈ سے رابطہ ہی نہیں کیا۔

یو اے ای ٹی ٹوئنٹی لیگ کا اولین ایڈیشن آئندہ سال 6 جنوری سے 12 فروری تک ہوگا، پی سی بی نے اس ایونٹ کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا اور اسی وجہ سے آئی سی سی کے سامنے بڑھتی ہوئی لیگز کے نقصانات کا معاملہ بھی اٹھایا، آئندہ ایسوسی ایٹ ممالک کی لیگز میں کھلاڑیوں کو شرکت سے روکنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق امارات لیگ میں شرکت کی اب تک کسی پاکستانی کرکٹر کواجازت نہیں ملی، 2 اسٹار کرکٹرز نے بورڈ سے این او سی مانگا مگر دونوں کو انکار کر دیا گیا،دیگر نے یہ دیکھ کر رابطہ ہی نہیں کیا، بابر اعظم،شاہین شاہ آفریدی،شاداب خان اور محمد رضوان کئی کھلاڑیوں سے مختلف فرنچائزز نے رابطہ کیا تھا،انکار کی وجہ انٹرنیشنل کرکٹ سیریز اور کام کے بوجھ کو قرار دیا گیا ہے۔

پاکستانی کرکٹرز رواں سال کے اختتام اور آئندہ برس کے اوائل میں نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز،انگلینڈ سے سیریز کے ساتھ پی ایس ایل میں بھی حصہ لیں گے، دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے اور سلیکشن کی دوڑ سے باہر کھلاڑیوں کو بھی یو اے ای جانے کی اجازت نہیں ملی،کچھ عرصے قبل 2کھلاڑیوں کو 12،12 کروڑ روپے کی پیشکش ہوئی تھی، دیگر کو بھی بھاری معاوضوں کا کہا گیا تھا،البتہ بورڈ کا سرد رویہ دیکھ کر فرنچائزز نے اب پاکستانی کرکٹرز کی جانب دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔

جب بعض کھلاڑیوں نے منتظمین سے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ پی سی بی نے این او سی کی پالیسی ابھی واضح نہیں کی ہے،البتہ ذرائع کے مطابق اجازت نامے کیلیے یو اے ای سے کئی ملین ڈالرز کا مطالبہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ آئی پی ایل میں کرکٹرز کو شرکت کی اجازت کے عوض بھارتی بورڈز تمام بورڈز کو رقم دیتا ہے، البتہ یو اے ای نے تاحال ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی۔