fbpx

واللہ :ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی،صورت حال بہترہونا شروع گئی ہے”وزیراعظم

اسلام آباد: واللہ :ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی،تنخواہیں میں اضافہ ضروری ہے: وزیراعظم نے دل کی بات بتادی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ دنیا بحرانوں کی زد میں ہے ، امیرملکوں کا کباڑا ہوگیا ہے ، اللہ نے ہم پرمہربانی فرمائی اور ہربحران سے کامیاب نکلے

وزیراعظم عمران خان نے ’’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘‘ پروگرام میں براہ راست عوام کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوشش ہے کہ ہر مہینہ 2 مہینے کے بعد عوام کی کال سنوں، اصولاً مجھے یہ بات پارلیمنٹ میں بولنا چاہیے، پارلیمنٹ میں مجھے بولنے نہیں دیتے۔

’’مہنگائی دنیا بھر میں ہے‘‘وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی، مہنگائی مجھے کئی دفعہ راتوں کو جگاتی ہے جب کہ مہنگائی دنیا بھر میں ہے۔

پاکستان سےلائیو ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں پوری دنیا کا ہے، جب ہمیں حکومت ملی تو ملکی تاریخ کا 20ارب ڈالر کا خسارہ ملا، ہماری حکومت آئی تو سارا دباؤ قرض کی وجہ سے روپے پر پڑا، ہم پر بوجھ پڑا تو روپیہ گرا ، جو چیز ہم امپورٹ کرتے ہیں وہ مہنگی ہوجاتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کروناکی وجہ سے دنیا میں سپلائی بحران کاسامنا ہے، برطانیہ کی سالانہ آمدنی پاکستان سے 50 فیصد زیادہ ہے، وہاں بھی غذائی بحران جاری ہے، جاپان میں مہنگائی کا 20سالہ ریکارڈ ٹوٹا ہے، فرانس میں 13سال بعد مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے، جرمنی میں اس وقت مہنگائی کا 30سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، یورپ میں بھی 30سال کی سب سے زیادہ مہنگائی ہے۔ ڈالر افغانستان جانا شروع ہوئے جس سے ہمارے روپے پر دباؤ بڑھ گیا، جب کہ موجودہ مہنگائی کی لہر کورونا کی وجہ سے ہے، دنیا بھر میں تاریخی مہنگائی ہے، ہم سے امیر ترین ملک بھی مہنگائی کی لپیٹ میں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہو رہا ہے، تنخواہ دار طبقے کی حالت کو ٹھیک کرنا ہے، کوشش ہے کہ جلد ہی تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین کی مدد کریں۔

وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ عالمی اداروں جیسے بلومبرگ اور کئی اور ادارے شامل ہیں انہوں نے دنیا کوخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، بلوم برگ کے مطابق گیس بحران کے بعد کھانے کی اشیاء کا بھی بحران آنیوالا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری انڈسٹری سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، مزدوروں کے حالات بہتر ہوئے ہیں، کسانوں کے پاس پیسہ آیا ہے، ملک میں کارپوریٹ سیکٹر نے ریکارڈ منافع کمایا جب کہ کارپوریٹ سیکٹر سے اپیل ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں۔