نامور امریکی مفکر نوم چومسکی کی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف پٹیشن کی حمایت

نامور امریکی مفکر نوم چومسکی کی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف پٹیشن کی حمایت

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : معروف امریکی مفکر نوم چومسکی نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف پٹیشن کی حمایت کر دی ہے ۔ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ میر شکیل کو شفاف ٹرائل کے بغیر گرفتار کیا گیا، وہ معاملے میں حکام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ پٹیشن میں مزیدکہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس کی صورت حال کے پیش نظر حکومتیں غیر متشدد قیدیوں کو رہا کر رہی ہیں ان حالات میں‌ میر شکیل الرحمان کو نیب کی جیل سے رہا نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے.

خیال رہے کہ نوم چومسکی ایک امریکی نظریاتی ماہر لسانیات ہیں جن کے کام نے لسانیات اور حیاتیات پر مبنی ادراکی صلاحیتوں کے میدان میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ انہوں نے لسانیات ، علمی نفسیات اور زہن اور زبان کے فلسفوں میں کافی کام کی اہے

چومسکی نے ، اپنے کیریئر کے دوران ، "علمی انقلاب” کے نام سے جانے جانے والی چیز کو شروع کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد کی ہے۔

حالیہ برسوں میں ، چومسکی نے امریکی گھریلو سیاست ، خارجہ پالیسی ، اور دانشورانہ ثقافت پر معاشی اشرافیہ کے مضر اثرات کے تجزیوں کے لئے ایک سیاسی عدم اعتماد کے طور پر دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی ہے۔

مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے قبضوں سے متعلق اصولی مؤقف اختیار کرنے پر چومسکی کو پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں حقوق پامالی کی بھی اکثر دفعہ فلسطین میں اسرائیلی فوجیوں پر قابض مظالم سے تشبیہ دی ہے۔

چومسکی نے یہ بھی وکالت کی ہے کہ بھارتی فوج کو کشمیر سے باہر نکلنا چاہئے۔ بھارتی فوج کو کشمیر چھوڑنا چاہئے۔ چومسکی نے سنہ 2015 کے موسم گرما میں ایک صحافی کے ساتھ گفتگو میں کہا ، خاص طور پر اس جعلی انتخابات کے بعد 80 کی دہائی کے آخر سے ، ایک خوفناک کہانی رہی ہے اور وہاں بھیانک مظالم ہوئے ہیں

واضح‌ رہے کہ اس سے قبل دنیا میں انسانی حقوق کے وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم امل کلونی کی ڈوٹی چیمبر نے بھی میر شکیل الرحمن کی نیب کے ہاتھوں حراست کے خلاف اقوام متحدہ میں درخواست دی تھی اور کہا تھا کہ اقوام متحدہ یقینی بنائے کہ حکومت پاکستان اور نیب عالمی قانون کی پاسداری کریں

درخواست میں کہا گیا کہ میر شکیل الرحمان کو فوری رہا کیا جائے،گرفتاری کے مقاصد سیاسی ہیں اس میں قانون کی پاسداری نہین کی گئی،آزادی اظہار رائے پر عملدرآمد ہونا چاہئے، وزیراعظم عمران خان اور نیب کو میر شکیل کو رہا کرنا چاہئے.اقوام متحدہ اس حوالہ سے ان پر دباؤ ڈالے، اس نے نوٹ کیا کہ ایم ایس آر کی گرفتاری اور نظربندی عمران خان کی حکومت اور نیب کے ذریعہ ، جنگ میڈیا گروپ اور اس کے صحافیوں ، اور پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے لئے بگڑتے ماحول کے نشانے پر ، اور ان پر نشانہ بننے کے بعد ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ سے اپیل کی گئی ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں اس لئے پاکستان پر یو این دباؤ ڈال سکتا ہے، اقوام متحدہ اس حوالہ سے پاکستان پر دباؤ ڈالے،

واضح رہے کہ امل کلونی غزہ کے حالات اور خطے میں شہری ہلاکتوں پر آواز اٹھانے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اس سے قبل اسے مالدیپ نے میانمار کے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے انصاف کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کی اعلی عدالت میں اس کی نمائندگی کرنے کے لئے خدمات حاصل کی تھیں.

خیال رہے کہ میر شکیل کو 12 مارچ کو نیب نے پلاٹوں کے لین دین کے حوالہ سے سوالات کے جوابات کی عدم فراہمی پر گرفتار کیا گیا، جنگ گروپ گرفتاری کے خلاف واویلا مچا رہا ہے ،اور اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا آزادی صحافت کے حوالہ سے کوئی تعلق نہیں، میر شکیل نے پلاٹ لئے اس کا جواب دیں،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.