fbpx

نوجوان مستقبل کے معمار تحریر : راجہ فہد علی خان

‏اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ جس طرح کسی بھی گھر کی تعمیر میں ایک اينٹ بُنیادی حیثیت رکھتی ہے بالکل اسی طرح نوجوان نسل قوم کی بنیاد ہے۔ اگر نوجوان بیدار اور باشعور ہو گا تبھی اس کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا، اس کے برعکس اگر وہ غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہو جائیں تو قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
ترقی ان اقوام کا مقدر بنتی ہے،جن کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور تڑپ ہوتی ہے۔ اگر نسل نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور ملک میں ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان لیں ،تو یقین کیجیے کہ تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے۔اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ نسل نو ہی ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے.
نوجوان نسل کی اسی اہمیت کے اسی بات سے لگائی جاسکتی ہے کہ آج کل ہر سیاسی جماعت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت ان کے حامی ہوں اور جلسے میں شریک ہوں ۔ نسل نو کی ترقی، انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے بھی کیے جاتے ہیں، ان کے حالات تبدیل کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جس کا مطلب ملک کو فکری، معاشی، تعلیمی، معاشرتی اور دیگر کئی اعتبار سے تنزلی سے ترقی اور بہتری کی جانب لے جانا ہوتا ہے ، مگر کوئی بھی جماعت اپنے اعلان اور منصوبے کو اس وقت تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتی، جب تک اسے نسل نو کا تعاون میسر نہ آجائے۔سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو معیاری تعلیم ، روزگار کے بہترین مواقع اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل حل کرنے کی بات کرتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں کو پایا تکمیل آج تک نہیں پہنچا سکی۔جس کا خمیازہ ملک آج تک بگت رہا ہے۔جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے سنہری اقوال میں نوجوانوں کو کام ، کام اور صرف کام کرنے کی ہدایت دی ، ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسا سبق پڑھایا وہیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال صاحب نے نوجوانوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بیدار کیا اور شاہین کہہ کر ان کے جذبوں کو بلند کیا۔ آج جب ہم اپنے وطن عزیزکے حالات دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اُنکا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اُن کے خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہمیں دی گئی تھی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم محنت، لگن، اتحاد سے کام لیں اور زمہ دار شہری بن کر ملک کی بھاگ ڈور سنبھالیں تاکہ مُلک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ اگر نئی نسل کی پستی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی وجوہات کو دیکھا جائے تو اس میں تعلیمی ادارے، ناقص تعلیمی پالیسیاں، والدین ، اچھی تربیت کا فقدان، معاشرتی حالات اور حکومت کی عدم توجہی بھی ہے۔ حکومت نے کبھی قوم بالخصوص نوجوان نسل کی ترقی و تربیت پر توجہ نہیں دی اور نہ ان کی ترجیحات کو نظر میں لایا۔ ہماری حکومتوں کا تصورِ ترقی نہایت محدود ہے جو محض پلوں اور سڑکوں کی تعمیر تک ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ضروری ہیں پر ذہنی و فکری شعور اور تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کے بعد نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی زمہ داری تعلیمی اداروں کی ہے ۔ جہاں نئی نسل اپنی زندگی کا ابتدائی اور اہم حصہ گزارتے ہیں۔ یہ دعوے تو بہت بڑےکرتے ہیں جبکہ حقیقت کُچھ اور بیان کرتی ہے۔
اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک بزنس کی حد تک رہ گیا ہے۔ تعلیم و تربیت کی بجائے سرمایہ اکھٹا کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ قوموں کی پستی کی ایک بڑی وجہ اپاہج تعلیمی نظام ہے۔ ہمارےیہاں نوجوان نسل کو تاریخ اور تاریخ میں ہوۓ عظیم کام جو ہمارے رہنماؤں نے سرانجام دیئے ان کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت، سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی آگاہی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ سے واقفیت نہ ہونے سے نوجوان اسلامی اقدار سے دور ہیں ۔ اسی طرح نوجوان نسل کی تربیت کا ایک بڑا حصہ والدین کے زمہ ہے ۔ نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے والدین کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ۔ اسی سے نسلیں تباہ ہوتی ہیں.
درحقیقت نوجوانی کا دور وہ دور ہوتا ہے جب انسان کے ارادے ، جذبے اور توانائی اپنے عروج پر ہوتے ہیں ۔ اگران جذبوں اور توانائی سے قوم و ملک فائدہ نہ اٹھا سکیں تو یہ انتہائی بڑا نقصان ہے۔ قوم کے یہ نوجوان وہ ہیں جو صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ جنکے عزائم بلند ہیں۔ جو مایوس نہیں ہیں اور جنکو اپنے ملک سے محبت ہے اوراپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔

کھیل کا میدان ہو یا آئی ٹی کا، معاشرتی مسائل ہوں یا معاشی مسائل، کسی بھی شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں ۔ وہ کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نوجوانوں میں یہ شعور بیدار ہوجائے کہ ملک و قوم کو بام عروج پر پہنچانے کے لیے ان کی اہمیت کیا ہےاور وہ اپنی تمام تر توجہ ملک کی تعمیر و ترقی پر مرکوز کر دیں، تو ہمارے ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر ہوجائے کہ ملک کا مستقبل ان کے ہی ہاتھوں میں ہے ، ان ہی کےکاندھوں پر قوم کی ترقی کا دار ومدار ہے، وہ ہر برائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تو ملک میںمثبت تبدیلی آتے دیر نہیں لگے گی۔
اب صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ نوجوان کے پاس ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ہو کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوے کیسے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ کام والدین، اساتذہ،حکومت اور خود نوجوانوں، سب کو مل کر کرنا ہے۔
قومیں ایک رات میں نہیں بنتیں۔ صدیاں لگ جاتی ہیں نظام کو ٹھیک کرنے میں ، معاشرے کی تربیت میں، تب جا کر کہیں ایک ترقی یافتہ ملک و قوم وجود میں آتے ہیں۔ اس فعل کے لیے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے تب ہی ترقی کا سفر اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا۔ اور اس میں حکومت، تعلیمی نظام، والدین اور ہر ایک عام شہری کو اپنا اہم کردار پیش کرنا ہوگا ۔ تب جا کر ایک ترقی یافتہ قوم وجود میں آئے گی۔


@FahadRaja6720

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!