fbpx

بلدیاتی انتخابات کےلیے 4 نومبرسے کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں:پشاورہائی کورٹ کا حکم

پشاور:بلدیاتی انتخابات مقررہ تاریخ پر ہونگے,ملتوی نہیں ہونگے تاہم ویلیج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل بھی جماعتی بنیادوں پر ہونگے جن کے لئے کاغذات نامزدگی 4 نومبر سے لئے جا سکیں گے,

اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ  نے فیصلہ سنا دیا۔

 

پشاور ہائیکورٹ کے تین رکنی لارجر بنچ نے نیبرہوڈ اور ویلیج کونسل الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نیبرہوڈ اور ویلیج کونسل انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا حکم دے دیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو جماعتی بنیادوں پر الیکشن کرانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کا بھی حکم دیتے ہوئے 4 نومبر سے الیکشن پروسیجر شروع کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ کاغذات نامزدگی کی وصولی کا سلسلہ پرسوں سے شروع کیا جائے

 

یاد رہے کہ لوکل گورنمنٹ الیکشن کے خلاف جے یو آئی (ف) کے اکرم خان درانی، جماعت اسلامی کے عنایت اللہ خان اور مشتاق احمد خان، و دیگر خوشدل خان، حمایت اللہ مایار نے درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے درخواستوں کو جزوی طور پر منظور کرلیا۔

 

 

علاوہ ازیں حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بحال بلدیاتی اداروں کے اکاؤنٹس بھی بحال کردیے۔ سیکریٹری بلدیات نورالامین مینگل کی ہدایات پر اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کے لیے چیف آفیسرز کو گائیڈ لائینز جاری کر دی گئیں۔

ترجمان لوکل گورنمنٹ کے مطابق مجاز افسران 2019 کے ایکٹ کے تحت قائم کیے گئے اکاؤنٹس میں موجود رقوم 2013کے تحت بنائے گئے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کے ذمہ دار ہوں گے ۔ اکاؤنٹس میں موجودہ رقوم کراس چیک کے ذریعے منتقل کی جائیں گی۔

مقامی حکومتوں کی تمام آمدنی، پی ایف سی شیئر، ٹیکس شیئر 2013کے تحت قائم بینک اکاؤنٹس میں فوری منتقل کیے جائیں۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت قائم کیے گئے بینک اکاؤنٹس سے مزید کوئی ٹرانزیکشنز نہیں کی جاسکیں گی۔

ملازمین کی تنخواہوں،پنشنز،بجلی کے بل،پیٹرول اور دیگر اخراجات کی مد میں ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اکاؤنٹس کی منتقلی کے لیے افسران کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق بلدیاتی ادارے انتظامی اور مالی معاملات ہموار طریقے سے چلا سکیں گے۔