fbpx

ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

یہ تو سب جانتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ہر حکمت عملی باہمی رضا مندی سے طے ہوتی ہے جب ڈرنے ڈرانے کا وقت آتا ہے تو نواز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ڈیل کرنی ہو، لین دین یعنی آفر آئے تو پھر محمد شہباز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ۔ شہباز شریف کی رہائی کے پیچھے تو سب ہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی پلان ہے جس کی وہ تو رازداری کر ہی رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے کھلم کھلا عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم کے طور ان کا نام لینا شروع کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے اصل کہانی آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔

۔ ابھی آپ سیاست کے رنگ دیکھیں کہ جیسے سب جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو گلے لگا لیا ہے جب کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لئے پی ڈی ایم کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔

۔ بلاول بھٹو زرداری بھی نواز شریف اور مریم کو طعنے دے رہے ہیں مگر انھوں نے ساتھ ببانگ دہل یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی شہباز شریف کے موقف کو ہی مسلم لیگ (ن) کا
’’بیانیہ‘‘ سمجھتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے عبوری مدت کے لئے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ۔ اس لیے یہ قابل غور چیز ہے کہ جب سے شہباز شریف متحرک ہوئے ہیں مسلم لیگ(ن) کے جارحانہ بیانات میں کمی آ گئی ہے۔ ۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اب عمران خان شکستہ حال پی ڈی ایم سے خوفزدہ نہیں بلکہ شہباز شریف کی ’’پھرتیوں‘‘ سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے مسلم لیگ ن سے قابل قبول شخصیت شہباز شریف ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے اندر بھی طاقت ور عناصر جو خود وزارت عظمی کے منصب پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں شہباز شریف کی راہ میں کانٹے بچھا رہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ اگر شہباز شریف ایک بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے اور قومی حکومت کے اس منصوبے کا چوہدری نثار علی خان بھی حصہ بن گئے تو پھر ان کو ہٹانا ممکن نہیں ہو گا۔

۔ اب یہ بات برملا کہی جارہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بننے کی راہ میں حائل نہیں۔ اسی لیے وہ عبوری مدت کے لئے قومی حکومت کے قیام کی تجویز کی منظوری حاصل کرنے کے لئے لندن جانا چاہتے ہیں ۔

۔ کیونکہ اشارہ دینے والوں نے نہ صرف اشارہ دے دیا ہے بلکہ دو حرفی بات کہہ دی ہے کہ ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی لیکن اگر تبدیلی کی خواہش ہے تو پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لائیں۔ دوسری طرف سے جواب ملا ہے۔ ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کی جائے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی نہیں لانی بلکہ باہر سڑکوں پر مظاہرے ریلیاں اور مناسب طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے لیکن ابھی الیکشن کرانے ہیں تو کرا لیں ہم تیار ہیں۔

۔ مگر شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ اپنی شیڈو کابینہ بنائی جائے۔ سیاسی جلسے جلوسوں، ریلیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

۔ جبکہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے پہلے دس وزارء کی شیڈو کابینہ کی فہرست بنا کر ڈیوٹیاں بھی لگادی ہیں کہ دو سال میں ایسی پلاننگ کریں کہ ہم حکومت لیتے ہی ملک میں انقلابی اقدامات کر سکیں۔ ۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ سسٹم میں موجود بیوروکریسی کے لوگ روازنہ کی بنیاد پر رپورٹ اپنے سابق سینئر کو دے رہے ہیں۔
۔ ویسے یہ حقیقت تو خود عمران خان کی تسلیم کردہ ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت تو مل گئی لیکن ان کی سرے سے تیاری ہی نہیں تھی۔ لہٰذا یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جس کو حکومت دیں، ساتھ تیاری کا بھی کہیں۔ ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ وزیراعظم عمران خان کیوں چینخ چلا رہے ہیں۔ وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن فوج سے کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت گرانے میں اُس کی مدد کرے۔ وہ یہ طعنے کیوں دے رہے ہیں کہ ایک طرف یہ لوگ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور دوسری طرف منتخب حکومت کو گرانے کے لئے فوج کی مدد مانگتے ہیں۔ آپکو سمجھ آجانی چاہیئے ۔ جب شہباز شریف کہتے ہیں کہ نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے تو اس کے پیچھے کیا سوچ ہے ۔

۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات یہ کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ یا عملی اقدامات، یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، کبھی چین یا امریکہ کی، کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی سکنڈے نیوین ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔ آخر وہ کون سا نظام ہے جو عمران خان لانا چاہتے ہیں۔ ان کی تان دو باتوں پر آکر ٹوٹتی ہے، ایک یہ کسی کو NRO نہیں دوں گا اور دوسری کسی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔

۔ آئے دن سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں اور ان کے کرداروں کو محفوظ راستہ بھی دیا جاتا ہے۔کچھ ابھی تک ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور کچھ پتلی گلی سے نکل گئے ہیں۔

۔ شہباز شریف کے ملک سے باہر جانے کی کوشش تو تحریک انصاف کی حکومت نے بھرپور کوشش کر کے ناکام بنا دی یا کم از کم التوا میں ضرورڈال دی ہے ۔ مگر شہباز شریف کی تھیوری یا ڈاکٹرائن نے بہت سوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

۔ مسلم لیگ ن کے بیشتر لیڈروں کی طرح شہباز شریف کا بھی یہی خیال لگ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو سپورٹ نہ کرے تو عمران خان الیکشن نہیں جیت سکتے۔ شہباز شریف اور ان کے ہم خیال لیڈروں کے خیال میں اگر ن لیگ کوانتخابی میدان میں کھیلنے کا برابر موقعہ ملا تو وہ تحریک انصاف سے بہت بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن ہے ہی یہی کہ مقتدرقوتوں کے ساتھ براہ راست ٹکرائو سے گریز کرتے ہوئے افہام وتفہیم کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے جائیں اور کبھی دو قدم پیچھے ہٹ ، کبھی دائیں بائیں ہو کر ، ضرورت پڑنے پر دو قدم آگے بڑھ کرتخت وتاج حاصل کرنے کی سیاست کی جائے۔ ۔ یہ شہباز شریف کا پرانا نظریہ اور سٹائل ہے۔ مسلم لیگ ن پر سب سے مشکل اور سخت وقت جنرل مشرف کی وجہ سے آیا۔ اس وقت بھی ان کی یہ سیاست کام آئی اور بعد میں جب نواز شریف کی واپسی ہوئی تب بھی یہ سیاست کام آئی ۔

۔ مگر گیند پہلے بھی میاں نواز شریف کی کورٹ میں تھی، اب پھر انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کچھ عرصہ کے لئے پیچھے ہٹ کر خاموش رہنا پسند کریں گے؟ ۔ بہرحال نتیجہ جو بھی نکلے، پہلی بار عمران خان کی حکومت پریشان اور خوفزدہ نظر آئی ہے۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن نے خان صاحب کو چکرا دیا ہے ۔ نواز شریف کے بیانات کے برعکس شہباز شریف کی مفاہمت انہیں اپنی حکومت اور سیاسی مستقبل کے لئے زیادہ خطرناک لگ رہی ہے۔ ۔ بہرحال اپوزیشن کے پاس اس وقت سب سے بہترین موقع یہ ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں حکومت کو سخت مقابلے سے دوچار کر دے،اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے،اس سے اپوزیشن کی عوام میں پذیرائی بھی بڑھ جائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.