fbpx

نورعالم خان نااہلی ریفرنس کے دائرہ اختیار پر فیصلہ محفوظ

الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکان کے خلاف نا اہلی ریفرنسز کا کیس کی سماعت ہوئی،

چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت تین رکنی بینچ نے سماعت کی،منحرف ارکان چوہدری عاصم نذیر، احمد حسین دیہڑ، مخدوم سمیع گیلانی اور عامر طلال گوپانگ کی جانب سے میاں فیصل الیکشن کمیشن پیش ہوئے منحرف ارکان ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ، امجد کھوسہ کی جانب عثمان گھمن الیکشن کمیشن پیش ہوئے، منحرف ارکان عامر لیاقت حسین اور ڈاکٹر رمیش کمار ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن پیش ہوئے، پی ٹی آئی کی جانب سے ملیکہ بخاری، فیصل چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے

منحرف رکن نور عالم خان کی طرف سے انکے وکیل بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو گئے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ تمام منحرف اراکین کے وکلا ایک ایک کرکے روسٹرم پر آئیں،نور عالم کے وکیل نے آرٹیکل 63 اے (1) کا حوالہ دے کر ریفرنس پر اعتراض کردیا،کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل نہیں ہے، اسلیے ریفرنس نہیں سن سکتا،عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ نااہلی ریفرنس کا فیصلہ فل بنچ کریگا،بنچ کا نامکمل ہونا ایک لیگل ایشو ہے،نور عالم نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ میں نے سیاسی جماعت سے نہ استعفی دیا نہ کسی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی ،الیکشن کمیشن کے سامنے 2015 میں ایسے کیسز آئے تھے،کمیشن نے آرڈر کیا تھا کہ مکمل کمیشن ایسے کیسز پر فیصلہ کرے گا منحرف ارکان کا کیس پر فل کمیشن ہی فیصلہ کر سکتا ہے،الیکشن کمیشن نے نور عالم خان نااہلی ریفرنس کے دائرہ اختیار پر فیصلہ محفوظ کرلیا

پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ آرٹیکل 218 کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس وسیع اختیارات ہیں،الیکشن کمیشن کا کورم تین ارکان پر مشتمل ہے، الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھانا آئین کے منافی ہے، الیکشن کمیشن آئین کے مطابق نا اہلی ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے

الیکشن کمیشن نے تمام ریفرنسز کی سماعت 6 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی، تحریک انصاف کے وکیل نے منحرف ارکان کے کیسز کی الگ الگ تاریخ کی استدعا کر دی، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم شام تک کیس سن سکتے ہیں، ایک ہی جیسا کیس ہے، الگ نہیں کر سکتے،

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے 100 سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دیے تھے جو سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو بھجوائے تھے تاہم نئے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے استعفوں کو ڈی سیل کیا تھا۔

قبل ازیں رواں ماہ 14 اپریل کو پی ٹی آئی نے منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جماعت سے منحرف ہونے والے ارکان اسمبلی کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے جماعت چھوڑنے اور پیسے لیکر فلور کراسنگ کرنے والے ارکان آئین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جماعت کی پالیسی پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف آرٹیکل 63 اے کے مطابق کارروائی ہوتی ہے،پارٹی ٹکٹ پر الیکشن جیت پر عوام کے ووٹ کو بیچا نہیں جاسکتا، بابر اعوان نے منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی درخواست میں الیکشن کمیشن،اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاق کو فریق بنایا گیا ہے

عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ قراردیا جائے کہ منحرف اراکین کی نااہلی تاحیات ہوگی۔درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ جو بھی رکن پارٹی کو چھوڑنا چاہتا ہے وہ پہلے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے پارٹی سے منحرف ہونے والے اراکین صادق اورامین نہیں رہتے سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں انحراف کو ناسور قرار دے چکی ہے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمارنہیں ہونا چاہیئے منحرف ارکان کا ڈالا گیا ووٹ متنازعہ تصور کیا جائے۔ کوئی وجہ نہیں کہ منحرف ارکان کی نااہلی تاحیات قرارنہ دی جائے

بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں،چیف جسٹس