fbpx

نور مقدم کیس، شاطر دماغ چل گیا،بڑی پلاننگ ہو گی

نور مقدم کیس، شاطر دماغ چل گیا،بڑی پلاننگ ہو گی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آپ کو میں ںے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا کہ کیسے ظاہر جعفر نے عدالت کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے عدالت کے اندر پولیس والوں سے ہاتھا پائی بھی کی ان کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا۔ اور یہ سب ڈارمہ اس لئے کیا گیا تاکہ اس کیس کا رخ اپنے حساب سے موڑا جا سکے۔ لیکن پرانی ویڈیو میں۔۔ میں نے آپ کو وہ اصل الفاظ نہیں بتائے تھے جو کہ درندے ظاہر جعفر نے عدالت میں بولے تھے۔ کیونکہ ظاہری بات ہے میں سوچ رہا تھا کہ عدالت کے بارے میں جو گھٹیا الفاظ استعمال کئے گئے اگر وہ ہم استعمال کریں گے تو کہیں توہین عدالت نہ ہو جائے۔ لیکن اب جس سماعت پر یہ سب ڈرامہ ہوا تھا۔ جج عطا ربانی نے خود یہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ یہ درندہ ڈرامے بازی کر رہا ہے اس سماعت کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے لیکن جو ہم سوچ رہے تھے کہ عدالت کو اس پر ایکشن لینا چاہیے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس لئے اب میں پہلے آپ کو وہ الفاظ بتاتا ہوں کہ Exactly اس درندے نے کیا الفاظ عدالت کے لئے استعمال کئے تھے پھر میں آپ کو فیصلے کے بارے میں اور کیس کے بارے میں مزید تفصیلات بتاوں گا۔میں آپ کو موقع دے رہا ہوں آپ مجھے پھانسی پر لٹکا دیں۔ اتنے نا اہل افراد میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے جتنے اس کمرے میں موجود ہیں۔ یہ ساری کاروائی فیک ہے۔ اپنی زندگی میں میں نے اتنے نا اہل افراد نہیں دیکھے عدالت غلاظت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کاروائی کو طول دیا جا رہا ہے اس سے یہ صاف نظر آتا ہے کہ ان کے پاس بھی کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ میں آپ کو موقع دے رہا ہوں مجھے پھانسی پر لٹکا دیں۔ مجھے یرغمال بنا رکھا گیا ہے اگر میرے خلاف فیصلہ آیا تو یہ یرغمال ریاست کی نشانی ہوگی۔This fucking system is a drama. Court cannot give its fucking decision. This court is nothing but a dirt.یہ وہ الفاظ ہیں جو اس دن ظاہر جعفر نے عدالت میں استعمال کئے تھے۔ وہ عدالت جس میں اگر اجازت کے بغیر کوئی کاروائی کے دوران بولنے کی کوشش کرے تو اس پر توہین عدالت لگ جاتی ہے۔ عدالت یا عدالتی فیصلوں کے خلاف اگر میڈیا یا سوشل میڈیا پر کوئی سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس آجاتا ہے۔ لیکن اس درندے کے معاملے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس درندے کو جب تک عدالت سے باہر نہیں نکالا گیا تھا یہ وقفے وقفے سے آدھے گھنٹے تک عدالت سے متعلق نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا رہا تھا اور اس نے یہ تمام الفاظ بہت اونچی آواز میں چیخ چیخ کر کہے تھے۔لیکن ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے جو اس سماعت کا دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ اگر ملزم ظاہر جعفر نے رویہ درست نہ کیا تو ویڈیو لنک کے ذریعے ملزم کی حاضری شروع کردی جائیگی۔ یعنی اتنی بدتمیزی اور پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد صرف اتنی تنبیہہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس پر کوئی توہین عدالت کی دفعہ نہیں لگائی گئی۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس سے صاف یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ جعفر فیملی جس طرح کیس کا رخ موڑنا چاہ رہے تھے وہ اس میں اب کامیاب ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب اس فیملی کو عدالت لایا جاتا تھا اور میڈیا والے ان کی فوٹیج بناتے تھے تو کیسے اس درندے کی ماں عصمت رپورٹرز سے کیمرے چھین لیتی تھی میڈیا کو کوریج سے رکوانے کی کوشش کی جاتی تھی کہ ہماری پرائیویسی ڈسٹرب ہوتی ہے۔ انھیں میڈیا ہمیشہ ہی مسئلہ رہا ہے۔ تو اب اس تمام ڈرامے کی وجہ سے اس درندے کو چھٹی مل جاتی ہے کہ وہ عدالت نہ آئے اور ویڈیو لنک کے ذریعے ہی حاضری لگ جائے تو اس سے اچھی بات اس کے لئے اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس کی عدالت آنے سے جان چھٹ جائے گی میڈیا کے سامنے بھی نہیں آنا پڑے گا نہ میڈیا والوں کے کیمروں کا سامنا کرنا پڑے گا نہ ہی ان کے سوالات کا۔دراصل آپ کو معلوم ہی ہے کہ عصمت جعفر اب باہر آ چکی ہے تو اس کا شاطرانہ دماغ بھی خوب چل رہا ہے میں نے تو اس عورت کی ضمانت کا فیصلہ آتے ہی آپ سب کو یہ کہا تھا کہ اب اس کی طرف سے خوب سازشیں تیار کی جائیں گی اور وہی ہو رہا ہے۔ اور جو بھی یہ درندہ کر رہا ہے اس کے پیچھے اس کی ماں کی پلاننگ ہے۔اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جب عدالت میں یہ بولنا شروع ہوا تو جس وکیل نے اس کو روکا اور یہ اس کے روکنے پر خاموش ہو گیا تھا وہ وکیل اسد جمال ہیں جو کہ اس درندے کے وکیل نہیں ہیں بلکہ اس کی ماں عصمت جعفر کے وکیل ہیں۔ یہ درندہ عدالت کی بات نہیں مان رہا تھا جج کے منع کرنے پر اور یہ کہنے پر کہ اس کو باہر لے جائیں تو اس نے ہاتھا پائی شروع کر دی تھی لیکن اپنی ماں کے وکیل کی بات مان کر خاموش ہو گیا تھا کچھ دیر کے لئے۔ اور پھر یہ بھی کہ جب اسے لے جایا گیا تو اس کے بعد بھی اس درندے کی ماں اور اس کا وکیل جج صاحب کے سامنے اس کی سفارش کرتے رہے کہ دیکھیں جیل میں رہ رہ کر اس کی کیا ذہنی حالت ہو گئی ہے یہ کتنا زیادہ ڈسٹرب ہے اس کو علاج کی ضرورت ہے۔اور یہ صرف اس کی ماں ہی نہیں کہہ رہی بلکہ اب جتنے بھی ملزمان کے بیانات کی تفصیل ہمارے سامنے آ رہی ہیں چاہے وہ تھراپی ورکس والوں کے بیانات ہوں یا پھر جعفر فیملی کے ملازمین ہوں سب کے بیانات میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ ذہنی مریض ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر وامق اور ان کی ٹیم کے بیانات جو سامنے آئے ہیں اس میں یہی کہا گیا ہے کہ ہمیں تو کہا گیا تھا کہ مریض کی حالت کافی خراب ہے اس کو جا کر سنبھالیں تو ہماری ٹیم تو مریض کے لئے گئی تھی۔ لیکن جب ہم گئے تو دروازہ لاک تھا۔ ہم نے اس کے والد کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ آپ بے شک دروازہ توڑ دیں لیکن اس کو باہر نکالیں۔ لیکن دروازہ کیونکہ ڈبل لاک تھا اس لئے نہیں ٹوٹ سکا تب ہم نے باہر سے جا کر دیکھا تو کھڑکی کھلی ہوئی تھی اس لئے ہم نے سیڑھی منگوائی اور جب سیڑھی سے اوپر جاکر دیکھا تو اندر لاش تھی۔ ظاہر جعفر کی حالت کافی خراب تھی اور جب امجد اندر گیا تو اس پر ظاہر نے وار کیا لیکن اس نے ظاہر کو قابو کر لیا اور پھر ہمیں آواز دی کہ مریض قابو میں آگیا ہے اندر آجائیں پھر ہماری پوری ٹیم اندر داخل ہوئی۔یہ وہ بیان ہے جس سے ملتا جلتا بیان ہی تھراپی ورکس کے تمام ملازمین نے ایک ساتھ پلاننگ کرکے دیا ہے لیکن آپ ان کے جھوٹ کا ندازہ کریں کہ وہ درندہ جس کے دل میں نور کا سر تن سے جدا کرتے کوئی رحم نہیں آیا جو عدالت کے سامنے ہاتھا پائی کرتا رہا اور چار پولیس والوں کے قابو نہیں آیا مزید نفری بلانی پڑی تھی وہ اکیلے امجد کے قابو کیسے آگیا۔اور یہ پولیس والوں کے معاملے میں بھی میں آپ کو بتا دوں کہ بظاہر تو ہاتھا پائی کرنے پر پولیس نے اس کے خلاف فوری ایف آئی آر بھی کٹوائی تھی اس کو جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے اس رات اس کو جیل کی بجائے بھی مارگلہ تھانے لے جایا گیا تھا وہ رات اس نے تھانے میں گزاری۔ لیکن پولیس کی طرف سے جو ایف آئی آر کٹوائی گئی ہے اس کا اصل میں اس درندے کو فائدہ ہی ہوا ہے کیونکہ اس ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ملزم کی ذہنی حالت خراب تھی اور اس نے عدالت کے سامنے دیوار میں سر مار کر خودکشی کی بھی کوشش کی۔ اب آپ سوچیں کہ جج عطا ربانی صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ڈرامے بازی کر رہا ہے ان کو نظر آ رہا ہے تو پولیس کو نظر کیوں نہیں آرہا پولیس والے بھی اس درندے کی ماں کی زبان کیوں بول رہے ہیں وہ بھی اس کو ذہنی مریض ہی کہہ رہے ہیں۔ اور تھانے لے جانے کا بھی جو ڈرامہ کیا گیا وہ بھی معلوم نہیں کہ اصل میں اس رات وہاں کیا ہوا ہو گا۔ کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ پولیس کو جعفر فیملی کی طرف سے اتنا پیسہ کھلایا جا رہا ہے کہ پولیس درندے سے متعلق صرف وہ خبر سامنے لاتی ہے جو وہ لانا چاہتی ہے ورنہ میڈیا تک کوئی خبر نہیں آنے دی جاتی۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس لئے میں آپ کو بار بار کہہ رہا ہوں کہ یہ سب ڈرامہ ہے۔ یاد کریں جب یہ درندہ جیل گیا تھا شروع شروع میں بھی اس کی ایک لڑائی ہوئی تھی اور وہ لڑائی جیل میں موجود دیگر قیدیوں سے ہوئی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ درندہ اتنے زیادہ لوگوں کے درمیان نہیں رہنا چاہتا تھا تب اس نے لڑائی کا ڈرامہ کیا اور اپنا مقصد حاصل کر لیا اس کے بعد دوبارہ کبھی سننے میں نہیں آیا کہ اس نے جیل میں کوئی ایسی حرکت کی ہو بلکہ ایک وقت تو وہ بھی آیا تھا کہ پولیس والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ بہت قابل بچہ ہے۔تو اب میں آپ کو بتا دوں کہ اس قابل بچے کا اور اس کی ماں کا شاطر دماغ خوب چل رہا ہے جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ پوری پلاننگ کے ساتھ کیا جا رہا ہے تاکہ جس طرح ماں نے عورت ہونے کی بنیاد پر ضمانت حاصل کی ہے اسی طرح اس درندے کو ذہنی مریض ثابت کرکے علاج کے لئے ضمانت دلوائی جائے، جیل سے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اور ویسے بھی دو ہفتوں سے زیادہ ہو گئے ہیں یا تو جلد از جلد ٹرائل پورا کرکے فیصلہ کیا جائے ورنہ اس طرح کی چھوٹی موٹی ایف آئی آر کٹوانے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اصل جرم سے دھیان ہٹایا جائے۔ کیونکہ جس انسان نے اتنی بے دردی سے ایک لڑکی کو قتل کر دیا جس کے ساتھ اس کی دوستی تھی تو اس درندے کے لئے پولیس سے پاتھا پائی یا عدالت کے بارے میں ایسی باتیں کرنا تو بہت معمولی کام ہے اس لئے میری درخواست تو یہی ہے کہ آس پاس کی باتیں چھوڑ کر صرف نور مقدم کو انصاف دیا جائے جب اس معاملے میں انصاف ہو جائے گا تو سمجھیں سب ہو جائے گا