fbpx

نور مقدم قتل کیس،ملزم مزید ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

نور مقدم قتل کیس،ملزم مزید ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کر دی گئی

ملزم ظاہر جعفر کو مزید تفتیش کے لیے دوبارہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا .عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کو 2 اگست کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت پیشی کے بعد پولیس ملزم کو سخت سیکورٹی میں ساتھ لے گئی،

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جرائم میں کمی نہ ہو سکی،سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

دو روز قبل اسلام آباد کی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہرجعفر کو مزید تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ملزم ظاہرجعفر کو 31 جولائی کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

نور قتل کیس، وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا

نور قتل کیس، ملزم کی عدالت پیشی،مزید جسمانی ریمانڈ منظور

پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تھانہ کوہسار میں درج ہونیوالے ایف آئی آر کے مطابق شوکت علی مقدم نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ 19جولائی کونورمقدم فیملی کی غیرموجودگی میں گھرسے نکلی اور ہمیں رات کے وقت اطلاع ملی کہ وہ دوستوں کے ساتھ لاہورجارہی ہے نور نے ایک دو دن میں واپس آنے کا کہا۔ ملزم ظاہر جعفر سے فیملی طرز کی جان پہچان تھی  ظاہرجعفر کا ٹیلیفون آیا کہ نوراس کیساتھ نہیں ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پرپہنچ کردیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا