fbpx

نور قتل کیس، وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا

نور قتل کیس، وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم دے دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ذاتی طور پرسابق سفارت کار کی بیٹی کے قتل کیس کو دیکھ رہے ہیں،

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے خود آئی جی اسلام آباد سے معاملے پر بات کی وزیراعظم سمیت پاکستان کا ہر شہری واقعہ پر دکھی ہے،قانون کے معاملات عدالت نے دیکھنا ہوتے ہیں،یہ اہم کیس ہے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے چاہئیں،انصاف کی جو بھی شکل ہو لیکن درست انصاف ہو،یہ 5دن کا جذباتی کیسز نہیں ہونا چاہیے،وزیراعظم نے آئی جی کو کہا کہ اس کیس میں کوئی رعایت نہ کی جائے،اپوزیشن سے درخواست ہے ان کے غم بانٹیں، ملزم کا ریمانڈ بہت کم دیا گیا،عدالتوں سے دست بدست گذارش ہے اسے عام کیس نہ سمجھیں،بچی کی والدہ کا دُکھ دیکھا نہیں جا سکتا،

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جرائم میں کمی نہ ہو سکی،سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تھانہ کوہسار میں درج ہونیوالے ایف آئی آر کے مطابق شوکت علی مقدم نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ 19جولائی کونورمقدم فیملی کی غیرموجودگی میں گھرسے نکلی اور ہمیں رات کے وقت اطلاع ملی کہ وہ دوستوں کے ساتھ لاہورجارہی ہے نور نے ایک دو دن میں واپس آنے کا کہا۔ ملزم ظاہر جعفر سے فیملی طرز کی جان پہچان تھی کل دوپہر ظاہرجعفر کا ٹیلیفون آیا کہ نوراس کیساتھ نہیں ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پرپہنچ کردیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!