ورلڈ ہیڈر ایڈ

نوشہرہ سے درگئی تک ریلوے کی رفتار بڑھانے کے لیے حکومت نے کیا کیا ۔ اہم خبر آ گئی

نوشہرہ سے درگئی تک ریلوے ٹرین کی رفتار بڑھانے کے لیے سامان پہنچادیاگیا،کم ازکم رفتار70کلومیٹرفی گھنٹہ ہوگی اور تمام غیرقانونی پھاٹک بندکئے جائیں گے رمضان کے بعد کام شروع کیاجائے گا ،پشاور سے طورخم تک ریلوے ٹریک کی بحالی وزارت سیاحت خیبر پختون خوا کی عدم دلچسی کی وجہ سے تاخیر کاشکار ہوگئی ،ذرائع کاکہناہے کہ پشاورسے طورخم ٹریک کی بحالی پر صوبائی حکومت کاسٹڈی پرزیادہ اورکام پر کم زورہے یہی حال رہاتومنصوبے مکمل کرنے میں دوسال لگ جائیں گے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ ریلوے نے سیاحتی مقام تحت بھائی اور اس سے آگے درگئی تک مسافرٹرین چلانے سے قبل فیصلہ کیاہے کہ ٹریک کواپ گریڈ کیاجائے ٹریک کواپ گریڈ کرنے کے لیے سامان پشاور ڈویژن کودے دیاگیاہے مگر رمضان کی وجہ سے ٹریک پر کام شروع نہیں ہوسکاہے رمضان کے بعد ٹریک پر تیزی کیساتھ کام شروع کیاجائے گاذرائع کاکہناہے کہ ٹریک پرانہ ہونے کی وجہ سے ریل گاڑی 40کلومیٹرفی گھنٹہ سے زیادہ تیز نہیں چل سکتی تھی اس لیے ریل گاڑی کی سپیڈ کوکم ازکم 70کلومیٹر فی گھنٹہ کرنے کافیصلہ کیاگیاہے ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ کافی عرصہ سے ٹریک بندہونے کی وجہ سے لوگوںنے غیرقانونی لیول کراسنگ بنائی ہیں ان کوختم کیاجارہاہے کیوںکہ اگر ریل گاڑی کی سپیڈ بڑے گی تو اس سے جانی ومالی نقصان کا خطرہ ہے ۔تحت بھائی سے آگے درگئی تک ریلوے ٹریک میں سب سے بڑی رکاوٹ تحت بھائی کے پاس این ایچ اے کاریلوے ٹریک پر پل ہے جس کی وجہ سے نکاسی اب کانظام بندہوگیاتھا اور وہاں پر پانی کھڑا ہوتاتھااین ایچ اے کوکہاگیاتھا کہ وہ اس مسئلہ کوحل کرے اور تحصیل مونسپل کمیٹی نے نکاسی اب کے مسئلہ کوحل کرناتھا رمضان کے بعد پل کے نیچے ٹریک کوتبدیل کرلیاجائے گاپانی کھڑاہونے کی وجہ سے ٹریک زیادہ متاثرہواہے۔ذرائع کاکہناہے کہ پشاور سے طورختم سرحد تک ریلوے ٹریک کی بحالی کے حوالے سے پی سی ون بنایاگیاتھاجس میں آدھی رقم جو کہ تقریبا50سے 60کروڑ روپے تک بنتی تھی صوبہ کے پی کے کے وزارت سیاحت نے دینے کی حامی بھرلی تھی پی سی ون بننے کے بعد صوبائی وزارت سیاحت اس حوالے سے سنجیدہ نہیںہے محکمہ ریلوے کوپشاور سے طورخم تک دوبارہ پی سی ون بنانے کاکہاگیاہے ذرائع کاکہناہے کہ وزارت سیاحت کی بیورکریسی کاسٹڈی پر زیادہ زور ہے اور کام پر کام ہے جس کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کاشکارہوگیاہے اگر یہی صورت حال رہی تو ریلوے ٹریک کی بحالی پر دوسال سے زائد کاعرصہ لگ سکتاہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.