نرسنگ کے نصاب میں ذیابیطس کا مضمون شامل کیا جائے: سربراہ جنرل ہسپتال

لوگوں کو امراض قلب، نابینا پن،بلڈ پریشر،فالج اور اعضاء کی قطع برید سے بچنے کیلئے طرز زندگی بدلنا ہوگا 
 تفصیلات کے مطابق پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ پاکستان میں نرسنگ کے نصاب میں ذیابیطس کے مضمون کو شامل کیا جائے۔ اگر نرسز کو مکمل طور پر میڈیکل ایجوکیشن سے آراستہ کیا جائے تو شوگر کے مرض پر قابوپانے کیلئے ان کی خدمات موثر ترین ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی اپنی سفارشات میں نرسوں کے کردار کی افادیت اجاگر کرتے ہوئے2020عالمی یوم ذیابیطس کا تھیم "ذیابیطس اور نرسز کی خدمات "قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں سپیشلائزیشن ضرورت بن چکی ہے اور ہمیں ذیابیطس کے مرض پر قابو پانے کیلئے بھی اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ ڈاکٹرز اور نرسز اس بیماری کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ علم اور تجربہ رکھتے ہوں۔

پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کی وجہ سے بے شمار امراض لاحق ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو امراض قلب، نابینا پن،بلڈ پریشر،فالج اور اعضاء کی قطع برید سے بچنے کیلئے طرز زندگی بدلنا ہوگا جس کے لئے متوازن غذاء،باقاعدگی کے ساتھ سیر، ورزش اور جسمانی محنت شوگر کی بیماری کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔ اسی طرح موٹاپے اور دیگر خاندانی امراض کی منتقلی پر بھی نگاہ رکھنی ہو گی جس کے لئے باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ بھی ضروری امر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر الفرید ظفر کا کہناتھا کہ جدید آسائشوں میں کمپیوٹر، موبائل فون اور دیگر اشیاء کی شکل میں راحت اور آرام پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہمیں پیچیدہ بیماریوں کا تحفہ دیا ہے،لوگوں نے پیدل چلنا چھوڑ دیا ہے اور فاسٹ فوڈ اس معاملے پر دوہرا نقصان کر رہی ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ذیابیطس کا مستند معالج سے علاج کروائیں،اپنی دیکھ بھال کریں،خون میں شوگر کی مقدار نہ بڑھنے دیں، مناسب نیند لیں، پیٹ کی چربی کم کریں اور لفٹ کی بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں۔
 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.