fbpx

مظلوموں کو دیوار سے لگا کر نسلہ ٹاورز کو دوسری لال مسجد نہ بنایا جائے:مصطفیٰ کمال

کراچی :مظلوموں کو دیوار سے لگا کر نسلہ ٹاورز کو دوسری لال مسجد نہ بنایا جائے:اطلاعات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ مظلوموں کو دیوار سے لگا کر نسلہ ٹاورز کو دوسری لال مسجد نہ بنایا جائے۔ 24 گھنٹے کے اندر نسلہ ٹاورز کے متاثرین کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اگر متاثرین کو ادائیگیوں کے لیے پیسے نہیں ہیں تو آباد میں شامل ہزاروں بلڈرز ہیں، شہر کے بڑے بلڈروں سے پول بنا کر پیسے لے لیں اور مارکیٹ ریٹ کے حساب سے رہائشیوں کو ادائیگیاں کر دیں اور اگلے ایس بی سی اے کے چالان میں بلڈروں کی رقم ایڈجسٹ کردیں۔ کراچی کی بدقسمتی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، حکومت پاکستان کے جس ریاستی ادارے کو طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے وہ کراچی کا رخ کر لیتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی والے قانون کا احترام کرتے ہیں اس لیے سب کو یہی شہر نظر آتا ہے۔ اگر کسی عمارت کو بم سے اڑانا ہی ہے تو ایس بی سی اے کی عمارت کو اڑائیں جو غیر قانونی تعمیرات کا گڑھ ہے، تاکہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات رکیں۔ سندھ حکومت روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ایکڑ آراضی اپنی جاگیر سمجھ کر تحفے اور سیاسی رشوت کے طور پر دے رہی ہے لیکن اسکے پاس در بدر کیے گئے متاثرین کو متبادل جگہ دینے کے لیے ایک انچ زمین نہیں ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ نسلہ ٹاورز کے یہ 44 خاندان ہوا میں تحلیل نہیں ہوجائیں گے، کہیں تو جائیں گے، کہیں تو بیٹھیں گے، ہم نے اپنے دور نظامت میں لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر سے پہلے نالے میں رہائش پزیر 10 ہزار سے اور خاندانوں میں ناصرف تین متبادل علاقے پانی، بجلی اور گیس کیساتھ فراہم کیے بلکہ انکو پچاس ہزار کا چیک بھی دیا۔ حکومت، عدلیہ سمیت تمام اداروں کو ساتھ ملایا اور مسئلہ حل ہوگیا، شہر میں ایک پتھر کسی نے نہیں اٹھایا۔ لیکن اب تو المیہ ہی یہی ہے کہ موجودہ حکمران مسائل حل نہیں کرسکتے کیونکہ یہ تو خود مسائل کی اصل وجہ ہیں۔ جب یہ عمارتیں تعمیر ہو رہی تھی تب کسی نے نہیں پوچھا نہ روکا،

سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جو کہ تب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تھی کے افسران سے کچھ نہیں پوچھا گیا، کوئی برطرفی نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس عدالت میں ریمارکس دیتے ہیں کہ سندھ حکومت چور ہے جو اگلے روز تمام اخبارات کی سرخیوں میں ہوتی ہے لیکن کبھی فیصلہ نہیں دیتے، نہ کبھی چوروں کو پکڑتے ہیں۔ عام آدمی بھی سوچنے پر مجبور ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو سب معلوم ہے تو روکتے کیوں نہیں اور زمہ داران کو سزا کیوں نہیں دیتے؟

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی اور دیگر اراکین سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کا کیا گناہ ہے جو انکی بجلی، پانی، گیس، ڈرینج کی لائنیں منقطع کر دی گئیں۔ نسلہ ٹاورز کو ذاتی انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے، بلکہ رہائشیوں کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں لاکھوں کیسز تعطل کا شکار ہیں، انصاف میں دیر کر کے سب سے زیادہ ظلم عدلیہ میں ہوتا ہے۔ پاکستان کو ٹھیک کرنے کے لیے پاکستان کے اداروں کو ٹھیک کریں۔ سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم کے نام پر پوری قوم سے چندہ کیا آج نہ سابق جسٹس ثاقب نثار کا پتا ہے اور نہ ڈیم کا، جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے پر اپنے والد سے کیس حل کرانے کیلئے کروڑوں کی رشوت لینے کا الزام تھا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، ملک آٹو پہ چل رہا ہے۔