نواز شریف کیخلاف قتل کا مقدمہ خارج کروانے میں شاہ محمود قریشی کا اہم کردار سامنے آ گیا

نواز شریف کیخلاف قتل کا مقدمہ خارج کروانے میں شاہ محمود قریشی کا اہم کردار سامنے آ گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے خلاف پی ٹی آئی دھرنے میں کارکنوں کی ہلاکت کا مقدمہ خارج، تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

تحریری فیصلے میں نواز شریف، شہباز شریف، چودھری نثار، سعد رفیق اور دیگر کے خلاف اخراج مقدمہ کی وجوہات تحریرکی گئی ہیں ،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کے مطابق اخراج رپورٹ بناتے وقت شواہد پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا،

تحریری فیصلے کے مطابق ریکارڈ کے مطابق بار بار طلب کرنے کے باوجود شاہ محمود قریشی پیش نہ ہوئے،شاہ محمود قریشی نے اپنے الزامات کے شواہد تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں کیے، درخواست گزار اخراج مقدمہ کی پولیس رپورٹ پر بار بار عدالتی نوٹس کے باوجود پیش نہ ہوئے، درخواست گزار شاہ محمود قریشی کے وکیل کی استدعا پر متعدد بار سماعت ملتوی کی گئی،

حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

حمزہ شہباز، میر شکیل الرحمان کی رہائی کیلئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

نواز شریف کے وارنٹ ،عدالت کا تحریری حکم بھی آ گیا

میر شکیل الرحمان کیس میں کیا غلط ہوا؟ سنئے مبشر لقمان کا کھرا سچ

نواز شریف کے وارنٹ پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب،میر شکیل الرحمان کے ریمانڈ میں توسیع

تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی کے وکیل نے گواہوں اور شواہد کی لسٹ عدالت میں بھی پیش نہیں کی، نواز شریف، چودھری نثار سمیت ملزمان کے موقع پر موجود ہونے کے شواہد پیش نہیں کیے گئے، اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کارکنوں پر فائرنگ کا حکم دینے کے شواہد بھی موجود نہیں، پولیس نے مقدمے کی اخراج رپورٹ مکمل تفتیش کے بعد عدالت میں پیش کی، پولیس کی اخراج رپورٹ میں بدنیتی یا تعصب کا کوئی عنصر موجود نہیں ہے،

واضح رہے کہ اس کیس میں وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ سماعت پر بری کر دیا گیا تھا،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے فیصلہ سنایا تھا،عدالت نے عمران خان کے علاوہ دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،

صدارتی استثنا کے باعث صدرمملکت عارف علوی کی حد تک کیس داخل دفترہے ،اس سے قبل عدالت عمران خان کو ایس ایس پی تشدد کیس میں بری کرچکی ہے ،ں۔ صدر مملکت عارف علوی، وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، صوبائی وزیر علیم خان، جہانگیر ترین بھی مقدمہ میں ملزم نامزد ہیں

واضح رہے کہ اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پولیس رکاوٹیں توڑ کر وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور مبینہ طور پر پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔

پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کرنیوالے جج کو او ایس ڈٰی بنا دیا گیا

پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،پارلیمنٹ کا جنگلہ کیوں توڑا گیا تھا؟ وکیل نے بتا دیا

اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کئے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.