مقبوضہ کمشیر :6 ہزار اجتماعی قبریں ، آسٹریلوی صحافی کے انکشافات نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا

سڈنی : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم منظر عام پرآنے لگے، اپنے ہی نہیں پرائے بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ دنیا میں اس وقت کشمیر میں جو مظالم ہورہے ہیں اس کی تاریخ ماضی میں نہیں‌ ملتی ، تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے معروف کالم نویس سی جے ورلیمان نے مقبوضہ کشمیر پر اپنی رپورٹ ہوشربا حقائق کا انکشاف کیا ہے، رپورٹ کے مطابق ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے ،

آسٹریلوی صحافی کی رپورٹ‌ کے مطابق 6 ہزار سے زیادہ اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں ، یہ ان لوگوں کی قبریں ہیں جنھیں بھارتی فورسز نے “غائب” کیا تھا۔ کشمیری اپنے ان پیاروں کی تلاش میں کئی برس ہوگئے ہیں ادھر ادھر کے دھکے کھارہےہیں.

ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ بڑی دلچسپ ہے جس میں تمام حقائق کھول کر پیش کیے گئے ہیں. ’مڈل ایسٹ آئی‘ اور ’بائی لائنز‘ کے کالم نویس سی جے ورلیمان نے “بھارتی قبضے کے تحت کشمیر میں زندگی” کے عنوان سے ہوش ربا اعداد و شمار ٹوئٹر پر شیئر کیے ہیں۔


جے ورلیمان کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورت حال صرف کشمیریوں پر مظالم سے ہی نظر آتی ہے. 80 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں۔مسلسل ظلم و ستم اور تناؤ کے باعث 49 فیصد بالغ کشمیری پی ایس ٹَی ڈی نامی دماغی مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔جن متنازع علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے،

آسٹریلوی صحافی نے انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بھارتی فورسز تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں 7 ہزار سے زیادہ زیرِ حراست ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔


سی جے ورلیمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی اٹھارہ قراردادیں موجود ہیں اور کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا ہے لیکن 2016 میں بھارت نے اقوام متحدہ کے وفد کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر جانے سے روک دیا ۔

دوسری طرف آسٹریلوی صحافی نے بھارتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت عالمی برادری کی کوئی پرواہ نہیں‌کررہی اور ایک منصوبہ بندی کے ذریعے کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے. صحافی جے ورلیمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.