fbpx

او آئی سی کا بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے،-

باغی ٹی وی : آرگنائزیشن آف اسلامک کارپوریشن( او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ کرناٹک میں مسلم لڑکیوں پر حجاب پر پابندی اوراتراکھنڈ میں مسلمانوں کی نسل کشی کے اکسانے کے واقعات پر سخت تشویش ہے.

مسلمانوں کو ٹوپی اتار کر تلک لگوانے پر مجبور کردیں گے، مودی کے حامیوں کی دھمکی

عالمی برادری اور اقوام متحدہ ان واقعات کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے، سیکرٹری جنرل او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت مسلمانوں کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنائے، مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والوں کو سزا دلوائے.

واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک مسلمان طالبہ مسکان خان کو دیکھ کرہندو انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے بلکہ جے شری رام کے نعرے بھی لگائے تھے جس کے جواب میں اکیلی مسلمان طالبہ نے اللہ اکبر کے نعرے لگا کر انہیں منہ توڑ جواب دیا تھا۔

بھارت میں 87 سالہ خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

مودی سرکار نے مسلم خواتین پر زندگی تنگ کردی ہے، بھارتی شہر مانڈیا میں حجاب کرنے والی لڑکیوں پر اسکول اسٹاف دباؤ ڈالنے لگا ہے، یہاں تک کے کلاس میں داخل ہونے تک حجاب پہننے کی والدین کی درخواست کو بھی نظرانداز کردیا گیا ہے۔

جبکہ مسلم خواتین اساتذہ کو بھی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر ہی برقع اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہے-

سلمان خان اورعامرخان بھارتی طالبہ مسکان کوکروڑوں روپے انعام دیں گے؟

بھارتی ریاست اترپردیش سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ منتخب ہوا تو مسلمانوں کو ماتھے پر تلک کا نشان بنانے پر مجبور کردوں گا بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے اس متعصب اقدام کے جواز میں روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔