fbpx

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 80 ڈالرتک گرگئیں

نیویارک :عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 80 ڈالرتک گرگئیں ہیں لیکن پاکستان میں قیمتیں بلند ہورہی ہیں بلومبرگ کےمطابق آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ گرگئی ہیں اور اس کی بڑی وجہ روس یوکرین تنازعہ ہے

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی مانٹرنگ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ جمعہ کو جنوری کے بعد پہلی بار 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے گرا اور اس میں کمی کے چوتھے ہفتے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

امریکہ اور دیگراتحادی ملکوں میں کساد بازاری کا ماحول ہے اورتیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے امریکی معیشت کو اور دہچکا دیا ہے ،

دوسری طرف نائیجیریا کے وزیر تیل ٹیمپری سلوا نے کہا کہ اگر خام تیل مزید گرتا ہے تو پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم پیداوار میں کمی پر مجبور ہوسکتی ہے۔ گروپ اور اس کے اتحادیوں نے اس ماہ کے شروع میں ایک سال سے زیادہ عرصے میں پہلی سپلائی میں کمی پر اتفاق کیا۔

بلومبرگ کا کہنا ہے کہ روس کے تیل پر یورپی یونین کی جانب سے پابندی عائد کرنے سے آگے مزید حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔

اس بحران پر قابوپانے کے لیے علیحدہ طور پر، رکن ممالک بھی ہفتوں کے اندر ایک سیاسی معاہدہ کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں جو روسی تیل پر قیمت کی حد کو نافذ کرے گا۔ صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے اس ہفتے یوکرین میں جنگ کو بڑھاتے ہوئے فوجیوں کو متحرک کرنے کا اعلان کرنے کے بعد زور پکڑ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر تک تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مالیاتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ خام تیل کی قیمتیں رواں سال کے اختتام تک 65 ڈالر فی بیرل تک گر جائیں گی۔رپورٹ کے مطابق 2023ء کے اختتام تک خام تیل کی قیمت 45 ڈالر فی بیرل ہونے کی توقعات ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کساد بازاری سے محدود ہوتی طلب کے سبب خام تیل کی قیمتیں گر سکتی ہیں۔

رپورٹ میں خام تیل کا آؤٹ لک اوپیک اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مداخلت کے بغیر وضع کیا گیا ہے

سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس