fbpx

اولاد کی تعلیم و تربیت . تحریر : محمد وقار

اولاد قدرت کا انمول تحفہ ہوتی ہے. جب اللہ اس نعمت سے نواز دے تو پھر اس کی پرورش کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کی ایک بھاری ذمہ داری بھی والدین پر عائد ہوتی ہے.اپنے بچوں پرورش و پرداخت کے لیے ماں باپ سے جو بن پڑتا ہے وہ کرتے ہیں. لیکن انجانے میں والدین سے اولاد کی تربیت کے حوالے سے بہت کوتاہیاں ہو جاتی ہیں.
.اس ضمن میں سب سے پہلی غلطی ہے بے جا لاڈ پیار… تمام والدین کو اپنی اولاد عزیز از جان ہوتی ہے لیکن بچے کی ہر بات پر لبیک کہنا کوئی عقلمندی نہیں. بچے کو دل پسند چیزوں کی عدم دستیابی پر چپ رہنا سکھانا ہوگا…. موجود اشیا پر شکرگزاری کی عادت ڈالنی ہو گی.
بے جا ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک بھی بچے کی شخصیت کو تباہ کر دیتی ہے. اس سے بچہ ضدی ہو جاتا ہے.. بچے میں اخلاقیات منتقل کرنے لیے آپ کا اپنا اخلاقی ہونا بہت ضروری ہے… مار دھاڑ، غصے اور چڑچڑے پن سے تمیز سکھانا امرِ محال ہے.
جب بچہ سکول جانے لگتا ہے تو والدین اس پر پڑھائی بہت زیادہ بوجھ ڈال دیتے ہیں اور کھیل کود کے لیے وقت بچتا ہی نہیں، بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشو و نما کے لیے کھیل اور ورزش بہت ضروری ہے.

اکثر والدین تعلیم پر بہت توجہ دیتے ہیں جبکہ تربیتی پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں..تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن تربیت بچے کی شخصیت کو چار چاند لگاتی ہے.. اور اچھی تربیت کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ یہ ہے کہ جو اوصاف آپ اپنے بچے کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں وہ اپنے اندر بھی پیدا کر لیں اور جو کام پسندیدہ نہیں ہیں ان اعمال سے خود کو بھی پاک رکھیں. کیونکہ بچہ وہ نہیں سیکھتا جو آپ سکھاتے ہیں بلکہ بچہ وہی سیکھتا ہے جو آپ کرتے ہیں.

بچہ جب لاڈ پیار سے بگڑ جاتا ہےتو اس سے جان چھڑانے کے لیے اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جاتا ہے جو کہ مزید تباہ کن ثابت ہوتا ہے… والدین کو چاہیے کہ بچے کو وقت دیں اور ایک دوستانہ ماحول میں ان سے گفتگو کریں تا کہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو بچے کو سکول بھیجتے وقت یہ تا کید مت کریں کہ اپنا لنچ کسی کوبھی مت دینا بلکہ بچے کے بیگ میں ایک اضافی لنچ بھی بھیج دیں اور اسے یہ بتائیں کہ جو بچہ لنچ گھر بھول آیا ہو یہ آپ اسے دیں گے اور اس سلسلے میں اس بات کی بھی تربیت ضروری ہے کہ بچہ لنچ شیئر کرتے وقت ایسے الفاظ کا استعمال نہ کرے کہ جس سے دوسرے بچے کی عزتِ نفس مجروح ہو دنیاوی تعلیم اور کامیابی کے لیے والدین ہر وقت متفکر نظر آتے ہیں جبکہ دینی تعلیم اور اخروی نجات کی سوچ خال خال ہی نظر آتی ہے. بچوں میں دین کی فکر پیدا کرنا ہی اصل کامیابی ہے.

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کو دین و دنیا کے حقیقی مدارج سکھائیں اور انہیں محبِ وطن شہری اور اچھا مسلمان بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں..

waqarkhan104@