fbpx

اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔