fbpx

اومی کرون کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں،مزید نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی،اقوام متحدہ

لندن: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اومی کرون کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ ابھی مزید نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی-

باغی ٹی وی :برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کی ٹیکنیکل ہیڈ ماریا وین کرخوف نے کہا ہے کہ وائرس اپنی شکل مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں کورونا کی بھی متعدد شکلیں سامنے آچکی ہے اور اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے ویریئنٹ اومی کرون آخری ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ مستقبل میں مزید ویریئنٹس سامنے آئیں گے۔

بی بی سی کو انٹرویو میں ماریا وین کرخوف نے کہا کہ کورونا وائرس اب بھی شکلیں تبدیل کرکے سامنے آرہا ہے اس لیے ہمیں اپنے معمولات زندگی کو بدلنے اور خود کو صورت حال کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہےکچھ لوگ اومی کرون کو زیادہ مہلک نہیں سمجھتے لیکن ایسا نہیں ہے کیوں کہ اس ویریئنٹ سے اسپتالوں میں مریضوں کی آمد بڑھ گئی ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اومی کرون ویریئنٹ ڈیلٹا ویریئنٹ کے مقابلے میں کم ہلاکت خیز ہے –

انہوں نے کہا کہ اس وبا سے بچنے کا واحد راستہ ویکسینیشن ہے اور تاحال دنیا بھر میں 3 ارب ایسے لوگ ہیں جنھیں اب تک کورونا ویکسین کا ایک بھی ٹیکہ نہیں لگا ہے اس لیے یعنی دنیا بھر میں ویکسینیشن کو بڑھانا ہے ماسک لازمی پہننا ہے اور سماجی فاصلے برقرار رکھنا چاہیئے۔

ایکسرے سے چند منٹوں میں کورونا کی 98 فیصد درست تشخیص کرنے کا کامیاب تجربہ

قبل ازیں ورلڈ اکنامک فورم کے آن لائن ڈیوس ایجنڈا 2022 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت میں ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا تھا کہ فوری طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اقدامات اٹھائے جائیں جن کی وجہ سے اس کے شرح پھیلاؤ میں کمی آئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو اور یہ ہمیشہ انسانی معاشرے میں موجود رہے لیکن ساتھ ہی امکان ظاہر کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے سبب اسپتالوں میں عائد کی جانے والی ہنگامی صورتحال کا سال رواں میں خاتمہ ہو سکتا ہے۔

مائیکل ریان نے واضح کیا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کا واحد مؤثر طریقہ کار ویکسینیشن کرانا اور جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ مستقبل میں کورونا مستقل بنیادوں پر انسانی معاشرے میں رہتا بھی ہے تو وہ اس قدر مہلک و خطرناک ثابت نہیں ہو گا جتنا اپنے ابتدائی دور میں تھا کورونا کے تیز پھیلاؤ کی وجہ سے بھی انسانوں میں قوت مدافعت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

دوسری جانب کورونا وبا کے خاتمے کیلئے ویکسی نیشن کا عمل دنیا بھر میں جاری ہے تاہم ایک فرد کی کامل ویکسی نیشن کی تعریف کیا ہے، اس امر میں ویکسین تیار کرنے والی فارمیسیز سمیت شعبہ صحت کے حکام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہےامریکا میں سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اپنی 2 اہم ذمہ داریوں میں توازن قائم کر رہا ہے جس میں ویکسین شدہ افراد کو بوسٹر شاٹس کی اہمیت بتانا اور جنہیں ابھی تک ایک بھی ویکسین نہیں لگی انہیں ویکسین لگوانے پر قائل کرنا شامل ہے۔

سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیل ولینسکی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ جن افراد نے ابھی حال ہی میں کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز لگوائی ہے اور وہ بوسٹر کے ابھی اہل نہیں ہوئے، وہ اپ-ٹو-ڈیٹ ہیں اور جو ویکسین کی 2 ڈوز لگواچکے ہیں اور اہل ہونے کے بابوجود بوسٹر شاٹس نہیں لگوائے، وہ اپ-ٹو-ڈیٹ نہیں کہلائے جاسکتے۔

کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو،عالمی ادارہ صحت

لیکن رائٹرزنے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا سی ڈی سی کی ڈائریکٹر سے اختلاف کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں میری تجویز یہ ہے کہ بوسٹر شاٹس کے بجائے ہر سال ایک بار باقاعدگی سے کورونا ویکسین لگائی جائے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ کچھ کاروباری اداروں، یونیورسٹیوں اور ان جیسے دیگر اداروں میں عملے سے بوسٹر شاٹس سے متعلق پوچھا جارہا ہے لیکن کامل ویکسی نیشن کے حوالے سے اکثر ادارے سی ڈی سی کی تعریف اپنائے ہوئے ہیں کہ کورونا ویکسی نیشن کے ابتدائی مراحل مکمل ہونے کے بعد ایک فرد کی ویکسی نیشن مکمل ہوجاتی ہے۔

جبکہ دی گلوب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کینیڈا کے شعبہ صحت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ کامل ویکسی نیشن کی تعریف کا دوبارہ تجزیہ کررہے ہیں۔

کورونا وائرس سے بچاؤ میں بھنگ بھی بہت مفید ،تحقیق