fbpx

اومی کرون کی علامت جو نیند میں سامنے آتی ہے

ایک تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون میں مبتلا افراد کو نیند کے دوران کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اومی کرون سے متاثرہ افراد رات کو سوتے وقت اچانک نیم فالج کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ایسے افراد نہ حرکت کر سکتے ہیں، اور جاگنے اور سونے سے قبل ان میں بولنے کی سکت بھی کم ہو جاتی ہےاس کے علاوہ مریضوں نے رات کو سوتے وقت پسینہ آنے کی شکایات بھی کی ہیں۔

سرخ آنکھوں اور جلد کی خارش بھی اومی کرون کی علامات ہیں ،امریکی طبی ماہرین

دوسری جانب ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ نیند میں فالج کی کیفیت محسوس ہونا ایک نارمل عمل ہے، ایک عام انسان بھی زندگی میں کئی مرتبہ ایسے لمحات سے گزرتا ہے-

ایک تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ قرنطینہ کے دوران مسلسل اکیلے رہنے کی وجہ سے بھی ایسے افراد میں یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

قبل ازیں امریکی ماہرین کی جانب سے ایک تحقیق جاری کی گئی جس میں اومی کرون اور کورونا کی علامات کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، اس دوران تحقیقی ٹیم نے کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی معلومات جمع کیں اور اُن کے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے جان کاری حاصل کی۔

یورپ میں کورونا کیسز میں اضافہ جبکہ پاکستان میں بھی 898 کیسز رپورٹ

ماہرین کے مطابق ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی کہ حال ہی میں جن لوگوں کو کورونا یا اومی کرون کی تشخیص ہوئی انہیں روایتی علامات جیسے بخار، سانس لینے میں دشواری ، نزلہ، جسم اور سر میں درد سمیت دیگر ظاہر نہیں ہوئیں البتہ 3 فیصد مریضوں کو آنکھیں سرخ، بال گرنے اور جلد متاثر ہونے کی شکایات تھیں علاوہ ازیں جن لوگوں میں اومی کرون کی تشخیص ہوئی انہیں جلدی بیماری یا خارش بھی شکایت بھی تھی۔

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد اینزائم 2 میں تبدیل ہوکر آنکھوں اور بالخصوص ریٹینا کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کی آنکھ کی سفیدی لال ہونے، آنکھوں میں خشکی، کھجلی اور سوجن کی شکایت ہوتیں ہیں-

بوسٹر ڈوز لگوائیں اور 100 ڈالر انعام پائیں

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!