fbpx

ماہ صفر المظفر کی بدشگونی اور توھمات تحریر: تیمور خان

صفر المظفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اس مہینے کے حوالے سے میں آج چند گذارشات تحریر کر رہا ہوں، اور وہ گذارشات یہ ہیں، کہ جہالت کی وجہ سے عام طور پر اس مہینے کو منحوس مہینا کہا جاتا ہے، اور کم علمی کی وجہ سے جہالت کی وجہ سے اس مہینے کے ساتھ بہت سارے شکوک اور تھمات وابستہ کیے جاتے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ شعریت اسلامیہ کی روشنی میں یہ دیکھا جائے کہ ماہ صفر المظفر کے متعلق جو شکوک اور جہالت والی باتیں ہیں ان کی کیا حقیقت ہے،

یاد رکھیں انسان پہ جو بھی مصیبت آتی ہے تکالیف اور بیماریاں آتی ہے اس کے آنے کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں، اللہ تعالیٰ نے پانچویں پارہ کے سورۃ نساء میں واضح طور پہ فرمایا۔ ٫٫ اے لوگوں تم میں سے جس پر بھی دنیا میں جو بلائی اور خیر ملتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور تمہیں دنیا میں جو تکلیفات مشکلات اور مصیبتیں ملتی ہے تو تمہارے اپنے کئے ہوئے شامت اعمال کی وجہ سے ملتی ہیں؛؛

تو پہلی بنیادی وجہ انسان کو دنیا میں جو تکلیف اور اذیت ملتی ہیں وہ انسان کے اپنے اعمال ہوا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تمہارے گناہ اور تکسیرات کو معاف بھی کر دیتا ہے،اور  دوسری بنیادی وجہ انسان پہ جو مصیبتیں اور تکالیف آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائشی کے طور پر آتی ہے، ان میں گناہوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ میرے اس بندے کے دراجات بلند ہوں اور جب اللہ اپنے بندے کو اپنا قرب دینا چاہتا ہے اپنا نزدیک بنانا چاہتا ہے، تو پھر بندے پہ اللہ اپنے امتحانات مقرر کر دیتا ہے، اور جب ان تکالیف اور امتحانات کے باوجود بندہ صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ سے لو لگائی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے درجات بلند کرتا ہے۔ 

اسی کے متعلق اللہ تبارک وتعالٰی نے دوسرے پارہ میں ارشاد فرمایا٫٫ اے لوگوں ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور آزمائیں گے ڈر کی وجہ سے، اس ڈر کی وجہ سے تمہیں آزمائیں گے، کبھی تمہیں بھوکا رکھیں وہ تمہاری آزمائش ہوگی، تمہارے مالوں میں ہم کمی کر دینگے ، تمہاری جانوں کا بھی ہم امتحان لینگے، اور کبھی کبھی میووں کے ذریعے تمہاری آزمائش لیں گے، اولاد چین کے تمہارا امتحان لیں گے، لیکن اللہ نے فرمایا اے میرے حبیب ان تکالیف میں جو صبر کرنے والے ہیں آپ ان کو خوشخبری دے دیجیے۔

یہی وجہ ہے انبیاء کرام جو کے تمام انسانوں میں سب سے افضل اور اشرف جماعت ہیں ان پہ سب سے زیادہ تکلیفات اور مصیبتیں آئیں سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا جتنی تکلیفات اور مصیبتیں انبیاء اور سرکارِ دوعالم ﷺ فرماتے ہیں مجھ پہ آئیں اتنی آج تک کسی بھی نبی پہ  نہیں آئیں، تو جو اللہ کا جتنا ہی زیادہ مقرب ہوگا اس کی مشکلات بھی اتنی ہی زیادہ ہونگی لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ جب عام انسان پہ مشکلات اور مصیبتیں آتی ہیں تو وہ شور مچائے گا وہ اللہ سے شکوہ کرے گا، لیکن جب اللہ کا نیک بندہ ہوگا اس کے ظاہری چہرے سے بھی کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ یہ تکلیف میں ہے وہ صبر اور تحمل سے کام لے گا، اسی لئے اللہ فرماتا ہے کہ انہیں لوگوں پہ اللہ کی رحمت پھر اترتی ہے۔

تو اسی لئے میں نے شروع میں تحریر کیا کہ صفر المظفر کا مہینہ ہے لوگ جہالت کی وجہ سے منحوس کا لقب دیتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب بھی صفر المظفر کا مہینہ آتا لوگ تجارت کے لئے نہیں جاتے تھے لوگ سوچتے تھے اگر تجارت کے لئے جاؤں گا تو مجھے تجارت میں نقصان ملے گا، لوگ اس مہینے میں شادیاں روک لیتے تھے ان کا کہنا تھا یہ شادی ناکام ہو جائے گی یہاں تک کہ اس مہینے میں کوئی بھی فیصلہ جس میں انسان اپنے کامیابی کی طرف جاتے تھے وہ اس مہینے میں وہ فیصلے نہیں کرتے تھے، لیکن جب اسلام آیا تو اسلام نے اسے قسم کے شکوک تھمات کو ختم کر دیا اسلام نے کہا یہ سب توھمات ہیں، اسلام نے کہا سارے مہینے اللہ کہ محرم الحرام بھی اللہ کا مہینہ ہے صفر المظفر بھی اللہ کا مہینہ ہے ذی الحجہ تک جتنے بھی قمری مہینے ہیں یہ سب اللہ کے مہینے ہیں کوئی بھی نحوست کی بات نہیں بلکہ اسلام نے لفظ نحوست کو ختم کیا۔ ، جب اسلام نے کسی چیز میں کمی نہیں چوڑی تو پھر توھم کس بات کا، جب تم اللہ پہ توکل کرو گے کوئی وسوسہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا توھم کے بت سرکارِ دوعالم ﷺ نے دفنا دیے ہیں

اسی لئے سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا بخآری مسلم شریف کی حدیث ہے، آپ نے فرمایا چار چیزیں جن کو عرب نے منحوس قرار دیا وہ کہتے تھے بیماری خود بخود ایک انسان سے دوسرے کو لگتی ہیں اسلام نے اس کو ختم کر دیا یہ توھم والی بات ہے ایک بیماری اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر دوسرے انسان کو کبھی بھی نہیں لگتی محدیثین فرماتے ہیں بلکہ اللہ کا ارادہ اس میں شامل ہوتا ہے، حضور نے فرمایا بدفغالی اسلام میں نہیں٫ مثال کے طور پر میں راستے میں جا رہا تھا کالی بلی میرے سامنے سے گزر گئی اس لئے میں بیمار ہوا؛ فلاں میرے ماتھے پہ لگا صبحِ صبح،، البتہ نیک فعا لی  ہے، مثال کے طور پر آج میرا دن بہت اچھا گزرا کیوں کہ میں نے اپنی ماں کے چہرے کی زیارت کی۔ حضور نے فرمایا علو میں بھی کوئی نحوسیت نہیں، ٫٫علو ایک پرندہ ہے؛؛ جس کو عرب والے نحوس پرندہ کہتے تھے، جب کوئی راستہ پہ جاتا تو اگر راستے میں اس کو علو کی آواز آتی یا اسکا نظر علو پر لگتا تو وہ واپس آتے تھے، اور سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ صفر المظفر میں بھی کوئی نحوسیت نہیں ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں صفر المظفر کو نحوس مہینہ کہا جاتا تھا خصوصاً صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو منحوس کہا جاتا ہے یہ رسم ہمارے معاشرے میں ہندستان سے آئی ہے چونکہ ہم متحدہ ہندوستان میں تھے پہلے ہمارے بڑے اکٹھے رہتے تھے سکوں اور ہندوؤں کے ساتھ کیونکہ یہ ان کے ہی توھمات  تھے اور یہی توھمات زمانہ جاہلیت میں عرب کے بھی تھے اور ہمارے برصغیر میں صفر المظفر کے پہلے 13 دنوں کو تیرہ تیزی بھی کہتے ہیں، تیرہ تیزی کا مطلب کی اس مہینے کے پہلے تیرہ دن سخت ہوتے ہیں،، تو سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا کہ ان باتوں کا کوئی بھی اصل نہیں ہے یہ جھوٹ اور جہالت والی باتیں ہیں سارے دن اللہ کے ہیں اور اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں اسی لئے علماء نے کہا کہ صفر کے نام کے ساتھ  المظفر کا نام بھی لگا دیا کرو آپ نے اکثر دیکھا بھی ہوگا، المظفر کا مطلب کامیابی،، تو صفر المظفر یعنی وہ مہینہ جس میں انسان کو کامیابیاں ملتی ہیں، یہ المظفر کا لفظ ساتھ میں اس لئے لگایا گیا تاکہ لوگوں کے دلوں سے وہ توھمات اور بد شگونیاں نکل جائیں۔ اس لئے اس مہینے میں اس قسم کی باتیں کرنا یہ جہالت والی باتیں اس قسم کی باتوں کا اسلام میں کوئی حقیقت نہیں۔ صفر المظفر کے پورے مہینے میں اکثر لوگ پورا مہینہ یا صفر کے آخری بدھ کو کیر پکھاتے ہیں یا کوئی خیرات کرتے ہیں، اگر یہ اپنے بڑوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی دن بھی مقرر نہیں یعنی پورے مہینے میں ہر وقت کرے پھر جائز ہے اور اگر نہیں صرف اس کے لئے خاص دن یعنی بدھ رکھا گیا ہو تو پھر ناجائز ہے اگرچہ ہمیں اس کا اصلاح کرنا چاہیے کہ آپ جو بھی خیرات دے رہے ہو وہ اللہ کی رضا اور بڑوں کے ایصالِ سواب کے لئے اگر وہ بدھ ہو گا جمعرات تو پھر جائز ہے۔ بعض غیر مستند کتب او رسالوں میں ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس آخری بدھ والے دن ہم چوری یا خیرات اس لئے کرتے ہیں کہ یہ بیبیوں نے کی تھی اور خاص کر حضرت فاطمہ خاتون جنت کے متعلق اس قسم کی روایات بیان کی جاتی ہے یاد رکھیں یہ روایت غلط ہے اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔٫٫ اور روایت یہ پیش کی جاتی ہے کہ صفر کا جو آخری بدھ تھا سرکارِ دوعالم ﷺ چونکہ اس بدھ سے پہلے بیمار تھے اور اس آخری بدھ کو آپ کی تبعیت زرہ سی ٹھیک ہوئی تھی اور آپ گھر سے باہر تشریف لائے تھے، تو اس خوشی میں خاتون جنت حضرت فاطمتہ الزہرہ نے کچھ خیرات کیا تھا، تو یاد رکھیں صدقہ اور خیرات بلکل جائز ہے لیکن اس روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی بنیاد پر یہ بلکل ناجائز ہے، ہمارے برصغیر پاک و ہند میں جتنے بھی بڑے بڑے علماء ہیں انھوں نے اس روایت سے یکسر انکار کیا ہے یہاں تک کہ مستند کتابوں میں بھی اس کا کوئی اصل نہیں بلکہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ نے اپنے تصانیف میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آخری بدھ تھا صفر المظفر کا اس میں سرکارِ دوعالم ﷺ کی بیماری اور بھی زیادہ ہو گئی تھی، بعض لوگ لا علمی کی وجہ سے کہ آپ کی بیماری شائد کم ہوئی تھی تو اس لئے اگر کوئی  اس نیت سے کہ آخری بدھ والے دن  صدقہ یا خیرات کرتا ہے تو یہ ناجائز ہے باقی اگر کوئی اچھے نیت سے محرم سے لے کر ذی الحجہ تک اور صفر المظفر کے پورے مہینے خیرات کرتا ہے اس کو منع نہیں کرنا چاہیے یہ جائز ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔

@ImTaimurKhan

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!