fbpx

اوپن مارکیٹ میں ڈالر 232 روپے کا ہوگیا

اوپن مارکیٹ میں ڈالر 232 روپے کا ہوگیا ہے.

آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے کے باوجود روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے اور ڈالر مزید مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب 16 کروڑ دالر قرض مل گیا ، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے روپے کی گرتی قدر کو سہارا ملے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ڈالر کو لگام نہ دی جاسکی۔

منگل کے روز بھی ملک کی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ بے قدری کا شکار ہے۔ پیر کو انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 88 پیسے بڑھ کر 219 روپے 86 پیسے ہوگئی تھی، منگل کے روز اس میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور ایک امریکی ڈالر 222 روپے کی سطح پر آگیا۔

دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے اور ایک ڈالر کی قیمت فروخت 232 روپے پر جاپہنچی ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طلب میں مسلسل اضافہ اس کی قدر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 1.16 ارب ڈالر موصولی اور اقوام متحدہ اور مختلف ممالک کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد آنے سے ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی تنزلی کا سلسلہ جاری ہوا تھا۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر سستا ہوگیا تھا. اس وقت ماہرین کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کا معاہدہ طے پانے سے ایرانی تیل کی سپلائی بحال ہونے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں نمایاں کمی کے امکانات روشن ہوگئے تھے جس سے پاکستان بھرپور انداز میں استفادہ کرسکے گا اور ملک کا آئل امپورٹ بل میں بھی نمایاں کمی سے معیشت کو سہارے کی امید کی گئی۔