پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اپوزیشن کے شور شرابے اور احتجاج پر ملتوی کر دیا گیا.

اپوزیشن کے شور شرابے اور احتجاج پر اجلاس 20 منٹ کےلیے ملتوی کر دیا گیا.

باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق حکومتی قرار داد پر اپوزیشن کی طرف سے آغاز پر اعتراض کر دیا گیا کہ آرٹیکل 370 شامل نہیں کیا گیا ، جسے بعد میں غلطی تصور کرتے ہوئے اعظم سواتی نے تسلیم کرتے ہوئے اس شق کو شامل کر لیا لیکن اس کے بعد اپوزیشن نے اتنا شور شرابا کیا اجلاس ملتوی کرنا پڑا. اس شور پر وفاقی وزیر شیری مزاری نے کہا کہ لگتا ہے اپوزیشن کشمیر پر بات کرنے نہیں آئی بلکہ سیاست کرنے آئی ہے.

واضح پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہو چکا،اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدام کی مزمت اور حالات پر بحث ہو گی،قومی اسمبلی میں‌حزب اقتدار کے نمائندوں سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین اورممبران شرکت کر رہے ہیں.اجلاس میں تازہ ترین صورت حال اور بھارت کی طرف سے جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی زیر بحث آئے گی.

واضح رہے کہ بھارتی صدرنےمقبوضہ کشمیر کی 4 نکاتی ترامیم پردستخط کردیئے جس کے بعد بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیرکی علیحدہ قانون سازاسمبلی ہوگی ، لداخ کومقبوضہ کشمیر سےالگ کردیا گیا بھارتی صدرنے گورنرکا عہدہ ختم کردیا اوراختیارات کونسل آف منسٹرزکوتفویض کر دیئے ،کالے قانون میں مقبوضہ جموں کشمیرآج سےبھارتی یونین کاعلاقہ تصورہوگا ،کالےقانون میں مقبوضہ جموں کشمیراب ریاست نہیں کہلائے گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.