fbpx

سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

دولت عثمانیہ 1299 میں قائم ہونے والی مسلمانوں کی سلطنت جس کے حکمران "ترک” تھے،
سولہویں اور سترہویں صدی میں یہ سلطنت دنیا کے تین براعظموں میں پھیل چکی تھے،
سلطان سلیمان 15 سال کی عمر میں گھوڑے پر بیٹھے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جنگوں میں گزارا انہوں نے ایشیا اور یورپ کے کئی علاقوں کو فتح کیا اور تمام فتح کیے علاقوں کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنایا،
سلطان سلیمان 1494 کو ترابزون (موجودہ ترکی کا علاقہ) میں پیدا ہوئے,
وہ 1520 کو عثمانی سلطنت کے دسویں سلطان کے طور پر تخت نشین ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے 89 خلیفہ بھی منتخب ہوئے,
جس دور میں آپ تخت نشین ہوئے اس دور میں مسیحی مغربی طاقتیں متحد ہو رہی تھیں یورپ کی سلطنتیں قرون وسطیٰ کے خلفشار سے نکل کر عہد جدید کی معرکہ آرائیوں کے لئے تیار ہو رہی تھی، وہ سب آپس کے مذہبی اختلافات بھلا کر عثمانی سلطنت کے خلاف اگٹھے ہو رہے ہیں،
کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے سلطنت عثمانیہ اور مغربی طاقتوں کے درمیان کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی تھی سلطان سلیمان کے والد سلیم اول کی زیادہ تر توجہ تمام اسلامی ریاستوں کی طرف مبذول رہی، اس مدت میں یورپ کی سلطنتوں نے بہت نمایاں طور پر ترقی کر لی تھی،

اسپین سے مورس کا اخراج ہو چکا تھا وہاں کی چھوٹی چھوٹی مسیحی ریاستیں متحد ہو کر ایک فرمانروا کے زیر حکومت آ چکی تھیں، فرانس بھی اپنے اندر کی مذہبی انتہا پسندی اور خانہ جنگی پر قابو پا کر دوسرے ملکوں کی فتوحات کی طرف نکل چکا تھا،
آسٹریا اور انگلستان میں بھی قوت و استحکام کی علامتیں موجود تھیں،
اور چارلس پنجم جس کی سلطنت یورپ کے نصب حصے پر پھیلی ہوئی تھی اس مسیحی اتحاد میں پیش پیش تھا،
اور دوسری طرف ایشیا میں ایران کی وسیع سلطنت سے بھی عثمانی سلطنت کو خطرات لاحق تھے، اور اس کے علاوہ شام اور مصر میں ہر وقت بغاوت کا خدشہ رہتا،
ایسے میں سلطنت عثمانیہ کو چارلس پنجم اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایک بہت بڑا چیلنج درپیش تھا، چناچہ سلیمان حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے 46 سالہ دور اقتدار میں کسی نہ کسی جنگی مہم میں مصروف رہے، جہاد کا جذبہ سلطان سلیمان کے سینے میں موجزن تھا اس جذبے نے انہیں آخری وقت تک میدان عمل میں مصروف رکھا،
سلطان سلیمان تخت نشین ہونے کے اگلے سال ہی بلغراد فتح کرنے نکل گئے سلطان نے وہاں سب سے بڑے گرجا گھر میں نماز ادا کی اور اس گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا،
بلغراد کی سرحدوں کے دوسرے قلعوں پر بھی عثمانیوں نے قبضہ کرلیا اور اس طرح ہنگری بھی فتح کیلئے عثمانیوں کے سامنے کھلا پڑا تھا،
سلطان سلیمان کی بلغراد فتح کا اثر یہ ہوا جمہوریہ وینس نے خود کو سلطنت عثمانیہ کا باج گزار تسلیم کر لیا اور یوں انہوں نے عثمانیوں کو سلانہ خراج دینے پر اکتفا کر لیا،
بلغراد اور رودوش یہی وہ دو معرکے تھے جن میں سلطان محمد فاتح کو شکست ملی تھی،
اس کے علاوہ رودوش کے جہاز بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں مجمع الجزائر اور اناطولیہ کے ساحلوں پر لوٹ مار مچاتے رہتے تھے، اور مصر اور شام کے درمیان جو تعلقات قائم ہوگئے تھے ان میں مبارزین رودوش اپنے جہازوں کے ذریعے رخنہ ڈالتے رہتے تھے،
بلغراد تو فتح ہوچکا تھا چنانچہ سلطان سلیمان نے ردوش فتح کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ عثمانیوں پر لگے اس داغ کو بھی صاف کرنا چاہتا تھا،
سلیمان عالی شان ایک لاکھ فوج لے کر ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کی طرف بڑھا۔ سلطان 28 جولائی 1522 رودوش کے ساحل پر اترا اور اس نے جزیرہ رودوش کا محاصرہ شروع کر لیا،
پانچ ماہ تک محاصرہ جاری رہا اور محاصرین کی قوت سے مجبور ہوکر بلآخر انہوں نے 6 دسمبر 1522 ینچروں کے اگئے ہتھیار ڈال دیئے سلطان نے مبارزین کو اجازت دے دی کہ وہ بارہ روز کے اندر اپنے تمام اسلحہ اور ساز و سامان کو لے کر اپنے ہی جہازوں پر رودوش سے چلیں جائیں، اگر ان کے جہاز کم پڑتے ہیں تو ہمارے جہازوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں،
لیکن اکثریت میں رودوش کے باشندوں نے سلطان کی رعایا بننا پسند کیا اس کے بعد انہیں مکمل طور پر مذہبی آزادی دے دی گئی،پانچ سال کے لیے ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا اور ان کے کلیساؤں سے بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، بلغراد اور روش کی فتح کے بعد ہنگری سسلی اور اٹلی کے راستے سلیمان کے لیے کھل گئے،
لیکن مصر کی بغاوت اور ایشیائے کوچک کی شورش نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا، لیکن سلطان سلیمان نے اس پر بھی قابو پا لیا اور وہ ہنگری کی طرف سفر کے لیے تیاریاں شروع کرنے لگے،
سلطان سلیمان نے ایک لاکھ فوج اور تین سو توپوں کے ساتھ قسطنطنیہ سے روانہ ہونے کے پانچ ماہ بعد 28 اگست 1526 کو موباکز کے میدان میں ہنگری کے شہنشاہ شاہ لوی اور اس کی فوج سے مقابلہ کیا،
دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں سلطان سلیمان کو فتح حاصل ہوئی اور ساتھ ہی ہنگری کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو گیا اور ہنگری کا شہنشاہ اور اس کے کچھ وزیر مشیر اور سپاہی بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کے مر گئے،
چنانچہ سلطان سلیمان نے ہنگری کا اقتدار زاپولیا کو سونپا اور خود پایہ تخت واپس آگئے،
لیکن ہنگری میں خانہ جنگی شروع ہو گئی،
آرک بوک فرڈیننڈ جو شہنشاہ چارلس پنجم کا بھائی تھا، ایک صلح نامہ کی رو سے جو چارلس پنجم اور سابق شہنشاہ ہنگری شاہ لوئی کے درمیان ہو چکا تھا ہنگری کے تخت کا دعویدار ہو گیا،
ایسے حالات میں زاپولیا اور اس کے حامیوں نے اپنی موافقت میں ہنگری کا ایک قدیم قانون پیش کیا جس کی رو سے ہنگری کے باشندے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص وہاں کا بادشاہ منتخب نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہاں کے امرا نے فرڈیننڈ کو منتخب کر لیا،
چنانچہ جنگ ناگزیر ہوگئی لیکن فرڈیننڈ کے ساتھ آسٹریا کی مدد تھی اس نے زاپولیا کو شکست دے کر ملک سے بھگا دیا،
زاپولیا نے پولینڈ میں پناہ لینے کے بعد سلطان سلیمان کو اس معاملے سے آگاہ کیا اور مدد طلب کی، اور دوسری فرڈیننڈ نے بھی اپنا ایک سفیر سلطان سلیمان کے پاس بھیجا،اور اس نے سلطان سے ہنگری پر اپنا اقتدار تسلیم کرنے اور اس کے علاوہ بلغراد اور رودوش لینے کا مطالبہ کر دیا،
ایسے میں سلطان سلیمان 1529 کو ڈھائی لاکھ کا لشکر لے کر ہنگری پر چڑھ دوڑا اس نے ہنگری کو دوبارہ فتح کرلیا اور پھر اقتدار زاپولیا کے حوالے کیا اس نے ہنگری سے سفر جاری رکھتے ہوئے ویانا کا محاصرہ کر لیا سلطان اس فتنے کی جڑ کو ہی ختم کرنا چاہتا تھا لیکن تین ماہ کے عرصے تک ایک قلعہ فتح ہو سکا موسم کی خرابی کی وجہ سے سلطان کو محاصرہ ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا تھا،
ہنگری کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنا دیا گیا چناچہ سلطان آسٹریا کے علاقے ویانا سے محاصرہ اٹھا کر واپس آ گیا لیکن یورپ کے قلب تک سلطان سلیمان اپنی سلطنت کو پھیلا چکا تھا،
اس کے بعد اس نے ایران کا سفر کیا اور اس نے ایران کے بہت سے علاقوں اور آذربائیجان تک اپنی سلطنت کے رقبے کو وسیع کر دیا،
سلطان سلیمان نے جب تخت نشین ہوئے تھے تو اس وقت سلطنت کا کل رقبہ 68 لاکھ کلومیٹر تھا لیکن جب اس کے 46 سالہ عظیم الشان دور کا اختتام ہوا تو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا کل رقبہ لگ بگ 1 کروڑ 48 لاکھ کلومیٹر تھا،
عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت انہوں نے دولت عثمانیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ مملکت کے لیے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس وجہ سے ترک قوم نے انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے نوازا اور یورپ کے مفسرین نے انہیں سلیمان ذیشان، سلیمان علیشان اور سلیمان اعظم جیسے ناموں سے مخاطب کیا،
1565 میں آسٹریا سے جنگ پھر شروع ہوگئی جس میں مسیحیوں نے کچھ کامیابی حاصل کر لیں، سلطان اس وقت کافی بیمار ہو چکے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی فوج کی قیادت کرنے کیلئے سفر پر جانے کا فیصلہ کیا،
2 اگست 1566 کو ایک قلعہ کا محاصرہ کیا جو 8 ستمبر تک جاری رہا اور آخر کار قلعہ فتح ہوگیا،
اس وقت جب لشکرِ اسلام خوشی سے جھوم رہا تھا وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کا محبوب سلطان اللہ کی رحمت میں جا چکا ہے،
سلطان 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب اس فانی جہان سے رخصت ہو چکے تھے،
سلطان کی میت کو واپس قسطنطنیہ لایا گیا وہاں ان کی تعمیر کردہ مسجد سلیمانیہ میں ان کو سپرد خاک کیا گیا،
اللہ سلطان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے،
آمین

@zsh_ali