قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک تحریر: محمد معوّذ

0
109

برادرانِ اسلام ! دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام بالکل محفوظ ، تمام تحریفات سے پاک ، ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجود ہے جن الفاظ میں وہ اللّٰه کے رسولِ برحق پر اترا تھا ، اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حدوحساب نعمتوں سے محروم ہیں ۔ قرآن ان کے پاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں سمجھیں ، اس کے مطابق عمل کریں ، اور اس کو لے کر اللّٰه تعالیٰ کی زمین پر اللّٰه کے قانون کی حکومت قائم کر دیں ۔ وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنے آیا تھا ۔ وہ انھیں زمین پر اللّٰه کا اصلی خلیفہ بنانے آیا تھا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انھوں نے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نے ان کو دنیا کا امام اور پیشوا بنا کر بھی دکھا دیا ، مگر اب ان کے ہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں ، اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گول کر پئیں اور ثواب کے لیے بے سمجھے بوجھے پڑھ لیا کریں ۔
اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے ۔ اس سے نہیں پوچھے کہ ہمارے عقائد کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اعمال کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہیں ؟ ہم لین دین کس طرح کریں ؟ دوستی اور دشمنی میں کس قانون کی پابندی کریں ؟ اللّٰه کے بندوں کے اورخوداپنےنفس کے حقوق پر ہم کیا ہیں اور انھیں ہم کس طرح ادا کریں ؟ ہمارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ اطاعت میں کس کی کرنی چاہیے اور نافرمانی کس کی ؟ تعلق کس سے رکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے ؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کسی چیز میں؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی چھوڑ دی ہیں ۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے گمراہ اور خود غرض لوگوں سے اور نفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں خود اپنےاور انھی کے کہے پر چلتے ہیں ۔ اس لیے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ان کا ہوا اور اسی کو آج ہندستان میں چین اور جاوا میں فلسطین اور شام میں ، الجزائر اور مراکش میں ، ہر جگہ بری طرح بھگت رہے ہیں ۔ قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے۔ جتنی اور جیسی خیر تم اس سے مانگو گے یہ تمھیں دے گا۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمے کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ، ذلیل و بے حقیقت چیز میں مانگتے ہو تو ہی تمھیں ملیں گی ۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرش الہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا ۔ یہ تمھارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو ، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے ۔
حضرات ! جو تم ظریفیاں ہمارے بھائی مسلمان اللّٰہ کی اس کتابِ پاک کے ساتھ کرتے ہیں وہ اس قدر مضحکه انگیز ہیں کہ اگر یہ خود کسی دوسرے معاملے میں کسی شخص کو ایسی حرکتیں کرتے دیکھیں تو اس کی ہنسی اڑائیں ، بلکہ اس کو پاگل قرار دیں ۔ بتایئے ! اگر کوئی شخص حکیم سے نسخہ لکھوا کر لائے اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر گلے میں باندھ لے ، یا اسے پانی میں گھول کر پی جائے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کو اس پر ہنسی نہ آئے گی ؟ اور آپ اسے بے وقوف نہ سمجھیں گے ؟ مگر سب سے بڑے حکیم نے آپ کے امراض کے لیے شفا اور رحمت کا جو بےنظیر نسخہ لکھ کر دیا ہے اس کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے رات دن یہی سلوک ہورہا ہے اورکسی کو اس پر ہنسی نہیں آتی ۔ کوئی نہیں سوچتا کہ نخسہ گلے میں لٹکانے اور گھول کر پینے کی چیز نہیں ، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کی جائے ۔

@muhammadmoawaz_

Leave a reply