fbpx

اوور سیز پاکستانیوں سے جگہ ٹیکس تحریر ؛ خرم شہزاد

 
اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں عمومی رائے ہے کہ ان کو پاکستان بارے خاصی فکر ہوتی ہے ، یہاں کے حالات و واقعات سے اتنے باخبر ہوتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والوں سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ زیادہ تر اوور سیز پاکستانیوں کو پاکستان میں موجود اپنے گھر کا کفیل ہونے کا بھی شرف حاصل ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ ہر سیاسی ، معاشی اور خارجہ پالیسی کی خبریں بھی من و عن یاد ہوتی ہیں۔
ان حالات میں میں آپکی توجہ اس مشکل کی طرف کروانا چاہتا ہوں جسکا اوور سیز پاکستانی ، پاکستان میں داخل ہوتے ہی سامنا کرتے ہیں۔ جب اپنی آنکھوں میں خواب سجائے ، دل میں ارمان لئے اور خوشی سے لبریز پاکستانی ائیر پورٹ پہ اترتے ہیں تو ویزہ چیک کرنے والے ڈیسک پہ ہی چند افراد سے سامنا ہوتا ہے جو آپکو پیسوں کے عوض آپکا پاسپورٹ جلد ازجلد کلئیر کروانا چاہتا ہیں۔ اسکے بعد جب آپ اپنا سامان لینے جاتے ہیں تو آپکو چند اور افراد گھیر لیتے ہیں جو پیسوں کے عوض آپکا سامان ڈھونڈتے اور پھر باہر جانے والے کاونٹر سے کلئیر کرواتے ہیں۔ اگر آپ نے ان افراد کی خدمات حاصل نا کی ہوں تو آپکا سامان یقینی طور پہ کھول کر دیکھا جائے گا کہ کہیں کوئی کسٹم کلئیرنس والا سامان آپکے بیگ میں تو موجود نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں بھی آپکو پیسے دینے پڑیں تاکہ آپ جلد از جلد ائیر پورٹ سے نکل سکیں۔ کسٹم والے حضرات بھی آپ سے جائز پیسوں سے بڑھ کر تقاضا کرتے ہیں تاکہ اپنی دھاڑیاں لگائی جا سکیں۔ جب یہاں سے آپ کلئیر ہو گئے تو اگلا مرحلہ سامان کو آپکی گاڑی یا ٹیکسی تک پہچانے کا ہے۔ جو شخص آپکے سامان کو آپکے ساتھ لیکر جا رہا ہو گا ، وہ گاڑی تک پہنچنے پہ آپ سے پیسوں کا تقاضا کرے گا اور امید رکھے گا کہ آپ اسے بیرون ملک کرنسی والا نوٹ دیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب بھی میں انگلینڈ سے واپس لاھور آتا ہوں تو مجھ سے ملکہ والا نوٹ (پاونڈ ) کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
آپ دنیا کے کسی بھی ائیر پورٹ پہ اتر جائیں ، جس نادیدہ طریقوں سے بیرون ملک سے آنے والوں کو پاکستانی ائیر پورٹ پہ لوٹا جاتا ہے اسکی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس لئے میری ارباب اختیار سے گذارش ہے کہ ائیر پورٹ کے عملے کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور کڑی نگرانی کی جائے کہ بیرون ملک سے آنے والے لوگوں سے کسی قسم کا کوئی جگہ ٹیکس نا لیا جائے تاکہ اپنے ملک کی عزت و تکریم پہ کبھی کوئی انگلی بھی نا اٹھا سکے۔
@drkshahzad