قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ 2023سے اب تک 10 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس اپنے وطن بھیج دیا گیا ہے، ہاکی کے لیے 119ملین روپے کا بجٹ دیاگیا، پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے فلائٹس کی بحالی کے حوالے سے مذاکرات ہورہے ہیں ۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہواتو اقبال آفریدی نے کہاکہ میرے حلقے میں لوگ شہید ہوئے ہیں اس پر کوئی بات نہیں کررہاہے اس کے بعد انہوں نے سپیکر کے ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا ۔ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مذاکرات کرکے دھرنا ختم کروادیا۔
وقفہ سوالات میں شرمیلا فاروقی نے کہاکہ جہاز ٹائر کراچی میں چھوڑ دیں گے لاہور میں غلط رن وے پر لینڈ کریں گے تو پابندی کس طرح ختم ہوگی ۔پارلیمانی سیکرٹری زیب جعفر نے کہاکہ پی آئی اے منافع میں ہوگئی ہے یورپ کی فلائٹس شروع ہوگئی ہیں یوکے کی فلائٹس کے لیے مذاکرات ہوئے ہیں مگر ابھی تک اس کی اجازت نہیں ملی ہے۔ برطانیہ کے لیے ترکش ائیر لائن کے ساتھ شیئرنگ شروع کردی ہے جس سے پی آئی اے کو منافع ہورہاہے ۔
آغا رفیع اللہ نے کہاکہ بچوں کو تعلیم دیا ریاست کی زمہ داری ہے مگر او پی ایف سکولوں میں بچوں سے فیس لی جارہی ہے ۔وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ او پی ایف سکولوں میں فیس بہت کم بڑی ہے سرکاری سکولوں میں کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے او پی ایف انہی فیسوں سے چلتا ہے ان سکولوں کو کوئی سرکاری فنڈ نہیں دیاجاتا ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری مختار بھرتھ نے بتایا کہ افغان مہاجرین میں سے اے سی سی ہولڈر کی تعداد 8لاکھ 13ہزار 146اور پی او آر کارڈ ہولڈرز کی تعداد 13لاکھ 1 ہزار 413 ہے ۔ افغان شہری ویزہ لےکر پاکستان آسکتے ہیں ۔ نومبر 2023 سے 7 مئی 2025 تک کل 10 لاکھ 2 ہزار 230افغان شہریوں کو واپس وطن بھیجا ہے ۔
شرمیلا فاروقی نے کہاکہ ہاکی قومی کھیل ہے مگر ہر ٹورنامنٹ میں وہ کولیفائی نہیں کررہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے وسائل خرچ ہورہے ہیں ۔کرن ڈار نے کہاکہ 119ملین روپے بجٹ ہم نے ہاکی کو دیا تھا کھیل میں سیاسی مداخلت کو کم سے کم کرنے کی کوشش کروں گی ۔ارکان قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ الاجز کے بارے میں شکایات کی بھرمار کردی۔ ارکان نے آؤٹ سورس کرنے کا مطالبہ کردیا.








