fbpx

پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ارکان کی طرف سے ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ڈیم فنڈکی تحقیقات ہونی چاہیں، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے نہ صرف تحقیقات کی جائیں گی بلکہ پبلک اکاونٹس کمیٹی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی بلایا جاسکتا ہے۔

اہل وطن کیلیےخوشخبری آگئی:مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے10مقامات پر بیک وقت…

تفصیلات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ارکان نے سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کا معاملہ اٹھادیا، ارکان نے ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

کمیٹی رکن برجیس طاہر نے کہا کہ ڈیم فنڈ حقیقت میں ڈیم فول ہے، ڈیم کے لیے چندہ اکھٹا کر کے قوم کا مذاق بنایا گیا، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے چندے سے ڈیم بنائے ہوں، فنڈ کےلیے9 ارب روپےاکھٹے کیےگئے اور 13 ارب اشتہارات پر لگا دیے گئے۔

پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے ہدایت کی کہ آڈیٹرجنرل سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔

سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ میں عطیہ کردہ 12کنال زمین مالک کو واپس کردی

انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی جائیں ڈیم فنڈ کے اشتہارات پر کتنے اخراجات آئے، کتنے خاندانوں نے ڈیم فنڈ سے بیرون ملک سفر کیا۔

چیئرمین پی اے سی نے ڈیم فنڈ شروع کرنے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی طلب کرنے کا عندیہ دے دیا، چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ مالی بے ضابطگیاں سامنے آنے پر سابق چیف جسٹس کو بھی بلائیں گے۔

 

چارپیسوں کی خاطرباپ کوڈپریشن کا مریض ثابت کررہے ہو:ڈیم بن رہا ہے:سپریم کورٹ

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پچھلے چیف جسٹس گلزار احمد بھی اس حوالے سے ادارے کی طرف سےریمارکس دے چکے ہیں ،اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ ڈیم فنڈ کا پیسہ سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ جب بھی ضرورت ہو واپڈا عدالت کو رقم کی فراہمی کا کہہ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے دیامر بھاشا ڈیم کیس کی سماعت کی تھی