fbpx

پیسوں کی ضرورت نہیں، خوشحال ہوں،جوڑے سے معافی مانگ لی تھی،عثمان مرزا کا عدالت میں بیان

پیسوں کی ضرورت نہیں، خوشحال ہوں،جوڑے سے معافی مانگ لی تھی،عثمان مرزا کا عدالت میں بیان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، عدالت نے ملزمان کو مزید جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل نے نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے اور انکی ویڈیو بنانے کے حوالہ سے کیس کی سماعت کی ،تھانہ گولڑہ کی پولیس نے سخت سیکیورٹی میں کیس کے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت چار ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کیا دیگر ملزمان میں عطاالرحمان ، فرحان اور ادارس قیوم بٹ شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تھا

سماعت کے دوران سرکاری وکیل جاوید عطا اور ساجدچیمہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ لڑکے اور لڑکی کے وکیل حسن جاوید شورش بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر سے پوچھا گیا کہ کتنے دن ہوگئے ہیں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ لئے جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ادارس قیوم بٹ کا 10 دن اور باقی ملزمان کا 9 روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا ہے

تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ جو رقم واقعے کے وقت چھینی گئی تھی وہ ادارس کے گھر سے ملی ہے جبکہ ملزمان نے کہا ہے کہ 11لاکھ 25 ہز ار جو لئے ہیں وہ دینے کوتیار ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان میں سے پیسے کون لیتا تھا تفتیشی افسر نے بتایا کہ مرکزی ملزم عثمان مرزا پیسے لیتا تھا اور باقیوں میں تقسیم کرتے تھے

عدالت نے مرکز ی ملزم عثمان مرزا سے پوچھا کہ آپ نے پیسے منگوائے تھے جس پر عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ میں نے ایک روپیہ بھی نہیں لیا میں صاحب حیثیت ہوں لاکھوں کی پراپرٹی ہے میرا اپنا کاروبارہے مجھے کسی سے پیسے لینے کی ضرورت نہیں ہے ویڈیوبنانے کے حوالے سے عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ ریحان نامی ملزم ویڈیو بنا رہا تھا وہ بھی گرفتار ہوچکا ہے

مرکزی مجرم عثمان مرزا نے عدالت میں بیان دیا کہ جس دن وقوعہ ہوا معافی تلافی ہو گئی تھی۔ لڑکا لڑکی کو ہم نے کہا آجاؤ، ہم معذرت کر لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا ہم آپ کی جگہ پر آئے تھے ہماری غلطی تھی ، ہماری معافی تلافی ہو گئی تھی جس دن کا وقوعہ ہے اسی روز صلح ہوئی معاف مانگی معذرت کی اگلے روز پھر کہا معذرت کرتے ہیں آج تک ایک روپیہ بھتہ لیا نا ان سے کبھی رابطہ کیا الحمد للہ خوشحال ہوں بھتے کے پیسے کی ضرورت ہی نہیں

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تمام ملزمان کی شناخت پریڈ منتقل ہوچکی ہے اور مدعیوں نے شناخت کرلی ہے پولیس کی جانب سے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو مزید تین روزکے لئے پولیس کے حوالے کردیا

باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان نے تشدد کر کے لڑکی کی شرٹ اتروا دی اس دوران لڑکی انکی منتیں کرتی رہی تا ہم ملزمان باز نہ آئے، آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے وقوعہ کا فوری نوٹس لیا اور ایس ایس پی آپریشنز کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا گرفتار ملزمان میں عثمان مرزا، فرحان اور عطاء الرحمان شامل ہیں۔

کی یاد تازہ،سفاک باپ نے بیٹا نہ ہونے پر 3 کمسن بیٹیوں کو قتل کر دیا

پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب