پاک فوج کے تعاون سے خیبر پختونخواہ میں کیا کام ہوا؟ آئی جی کے پی کے بول پڑے

پاک فوج کے تعاون سے خیبر پختونخواہ میں کیا کام ہوا؟ آئی جی کے پی کے بول پڑے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی خیبر پختونخواہ ثناءاللہ عباسی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے تعاون سے شھروں میں رونقیں بحال ھو ئی ھیں۔ پاک فوج نے انسانی حقوق کی بحالی،دھشت گردی، ڈرگ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کے جتھوں سے نجات دلائی،

آئی جی کے پی کے کا مزید کہنا تھا کہ اب صورتحال بھت بھتر ھے۔پھلے دھماکے روزانہ کی بنیاد پر ھوتے تھے۔اب کچھ نھیں ھے۔انضمام کے ثمرات ظاھر ھوں گے۔جنوبی وزیرستان میں پھلی مرتبہ منشیات اور اسلحہ لہرانے پر 19 مقدمات درج ھو ئے۔جو ناقابل یقین تصور کئے جاتے تھے اسپیشل فورس کچھ دنوں تک ریگولر پولیس کا حصہ بن جائے گی۔

آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ انضمام کے اثرات خیبر پختونخواہ کے علاوہ ریجن میں نظر آئیں گے۔ دو سو شھداء کے خاندانوں کے سرکاری روزگار کےحصول کے لئے حکومت سے رابطے میں ھیں۔ امن امان صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ھے۔پولیس سے مکمل تعاون کیا جارھا ھے۔لیویز ،خاصہ داروں کے معاملات تین سے چھ ماہ تک حل ھو جائیں گے۔قبائلی علاقوں میں پولیس مکمل فنکشنل ھو گئی ھے۔انضمام اچھا فیصلہ ھے۔اس سے حقوق کی بحالی ھو گی۔۔

 

آئی جی کے پی کے کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی ہمارا مشن ہے۔ پولیس نے وردی اپنے لئے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لئے پہنی ہے۔ پولیس کے لئے ویلفیئر پراجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔ اور اس کے لئے ویلفیئر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ پولیس کی تنخواہ بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔پولیس نے بے شمار قربانیاں دی ہے جو رائیگاں نہیں جائیں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.