"پاک دھرتی پاکستان اور ہمارا کردار” — عبدالحفیظ چنیوٹی

0
54

1947ء سے پہلے پاکستان برطانوی کالونی تھی۔

ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا۔

"پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” اس تحریک میں جان ڈالنے والا اور مسلمانوں کو متحد کرنے والا اک مقبول نعرہ تھا۔

اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئی۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناحؒ نے کی۔
بانی پاکستان بابا جی محمد علی جناحؒ کی انتھک محنت اور اپنی بیماری کو دشمن دین و پاکستان سے چھپا کر دن رات محنت کی، اور پھر رب العزت نے مسلمانوں کو دنیا میں عزت دی اور 27 المبارک کی طاق رات 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔

تقسیم برصغیر پاک و ہند کے دوران میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان میں 1948ء اور 1965ء میں کشمیر کے مسئلہ پر دو جنگوں کا سبب بن گئے۔

اس کے علاوہ چونکہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا بقول بانی پاکستان محمد علی جناحؒ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے
اسی شہہ رگ پاکستان کہ جس شہہ رگ کشمیر پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے.

اسی مقبوضہ قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے ہیں،

لہذا پاکستان کو 1960ء میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کرنا پڑا، جس کے تحت پاکستان کو مشرقی دریاؤں، ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔

1947ء سے لے کر 1948ء تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بھارت نے پاکستان کے حصہ میں آنے والی رقم پاکستان کو ادا نہ کی۔ اس کے علاوہ صنعتی ڈھانچے کے نام پر پاکستان کے حصے میں گنتی کے چند کارخانے آئے اور اس کے علاوہ کئی اندرونی و بیرونی مشکلات نے بھی پاکستان کو گھیرے رکھا۔

جب ہم چھوٹے تھے تو 14 اگست کا انتظار عید کی طرح کرتے تھے، ہفتہ پہلے سے انتظار شروع ہوجاتا تھا اور پھر 13 اگست کی ساری رات صبح کے اجالے کا انتظار ہوتا تھا، صبح ہوتے ہی گھر میں ٹی وی نا ہونے کے باعث ہمسایہ کیطرف جا کر ٹی وی پر پریڈ دیکھنا،
جھنڈیاں لگانا۔

پاکستانی پرچم تھام کر نکل جانا۔ جشن منانا اپنے انداز میں آزادی کا۔

شام کو جشن آزادی کے حوالے سے محلہ میں ہونے والے پروگرام میں شریک ہونا، پاکستان، پاک فوج، سے محبت بڑھ جاتی تھی۔تحریک آزادی پاکستان کے شہداء کے بارے سن کر جذبات ایسے ہوتے تھے کہ قلم کے ذریعہ بتانا ممکن نہیں،

لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والے پاکستان کے وجود اور اس پاکستان میں رہنے پر فخر محسوس ہوتا تھا۔

اور دل و دماغ ہر وقت اس عظیم مملکت کیلئے ایسا کچھ کر جانے کو مچل جاتا تھا کہ لوگ اس قربانی پر مجھے پاکستانی کہنے پر فخر محسوس کریں اور اس پاکستان کے دشمنوں کا میرے نام سے پسینے چھوٹ جائیں۔

وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے جدا ہوا

عزت اسی کو ملی جو وطن پہ قرباں ہوا

لیکن اک تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جیسے ہی 14 اگست کے دن کا اختتام ہوتا ہے تو اس کے بعد پورا سال پاکستانی پرچم والی لگی جھنڈیاں اور اور پرچم کے بے قدری شروع ہوجاتی ہے۔

پاکستانی پرچم والی جھنڈیاں گلیوں بازاروں میں پاؤں تلے روندی جاتی ہیں، گندی نالیوں میں گری پائی جاتی ہیں۔

پاکستانی پرچم چھتوں پر پورا سال لگے رہنے اور حفاظت نا ہونے کے باعث پھٹ جاتے ہیں پھر یہ کہ پھٹے پرانے پرچم لہراتے ہوئے دیکھ کر دل چھلنی ہوجاتا ہے۔

ہمیں چاہئیے کہ ہم ان افعال سے بچیں اور اپنے معصوم بچوں کی ذہن سازی کریں انہیں اپنے پیارے پرچم کی عزت کرنا سکھائیں، سمجھائیں۔

آخر میں یہ ہی پیغام دونگا اپنی پاکستانی عوام خصوصاً نوجوانوں کہ وہ پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں، آپ جس شعبہ سے بھی منسلک ہیں ایمانداری سے اپنے فرائض کو پورا کریں اگر آپ کا ایسا کوئی شعبہ ہے جس سے پاکستان کی ترقی و عظمت میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ اپنے فرائض کو پوری ایمانداری سے نبھاتے ہوئے اس کام کیلئے اپنی جان لڑا دیں۔

زندہ آباد پاکستان

Leave a reply