fbpx

پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔