fbpx

قوم ملکی ترقی کے دشمنوں کوپہچان گئی جنہوں نے سی پیک منصوبوں کو 4 سال جان بوجھ کر روکا. وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ چار سال تک سی پیک منصوبوں کو جان بوجھ کر روکا گیا، قوم ملکی ترقی کے دشمنوں کوپہچان گئی ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف سے چائنہ روڈ ایک برج کارپوریشن کے وفد نے ملاقات کی ہے، جس میں وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، معاونینِ خصوصی جہانزیب خان، ظفرالدین محمود اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی، جب کہ وزیرِ سمندری امور سید فیصل سبزواری وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس کو مختلف جاری و مکمل شدہ میگا پروجیکٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اور بتایا گیا کہ قراقرم ہائی وے ٹو کے حویلیاں تا تھاکوٹ سیکشن کو مکمل کرلیا گیا ہے جس پر ٹریفک رواں دواں ہے، جب کہ اس کے فیز ٹو تھاہ کوٹ تا رائے کوٹ پر بھی کام شروع ہے۔

وفد نے کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، راشاکئی اسپیشل اکنامک زون، کراچی حیدرآباد موٹروے M9, بابوسر ٹنل، ML-1 اور کراچی پورٹ ٹرسٹ تا PIPRI ریلوے کاریڈور کے منصوبوں پر بھی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ سی آر بی سی وزیرِ اعظم کے سی پیک کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں اور معینہ ٹائم لائنز کے اندر مکمل کرنے کے اقدامات کا خیر مقدم کرتی ہے، اس کے علاوہ سی آر بی سی نے 10 ہزار میگاواٹ کے سولرآئیزیشن کے منصوبے میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وائس پریزیڈنٹ سی آر بی سی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو سیلاب زدگان کی مدد کے طور پر وزیرِ اعظم فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے1 لاکھ ڈالر کا چیک بھی پیش کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سی پیک کے تحت منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر معینہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پرسی پیک منصوبوں کو مکمل کررہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 4 سال میں سی پیک منصوبوں کو دانستہ طور پر تعطل کا شکار کیا گیا، قوم ملکی ترقی کے دشمنوں کوپہچان گئی ہے، ہم ملک وقوم کے پیسے کی حفاظت کیلئےعوام کوجوابدہ ہیں۔ شہبازشریف نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت یقینی بنا رہی ہے، خصوصا عوامی نوعیت کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اورچین دیرینہ دوست ہیں جن کےبرادرانہ تعلقات دہائیوں پرمحیط ہیں، چین نے پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، سیلاب کے دوران مدد پر پوری قوم چینی صدر اور عوام کے مشکور ہیں،

دوسری جانب وزیر اعظم نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مالی معاونت قرضوں کی صورت میں نہیں ہونی چاہیے۔تباہ کن سیلاب کے بعد مدد کی بھیک نہیں مانگیں گے۔عالمی برادری کو سیلاب زدگان کے لئے مزید بہتر اور بڑے منصوبے کے ساتھ آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کومون سون کی شدید بارشوں کے بعد بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔تباہ کن سیلاب کے باعث ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آیاہے۔بعض علاقوں میں شدید طوفانی بارشیں ہوئیں۔زندگی میں اتنے بڑے پیمانے پر تباہی اور عوام کے مصائب نہیں دیکھے۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے عوام اپنے ہی ملک میں ماحولیات سے متاثرہ مہاجرین بن گئے ہیں۔عالمی برادری کے فنڈز، عطیات اور مدد کے وعدے ناکافی ہیں۔ملک میں ہونے والی تباہی ہمارے معاشی وسائل سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم کسی پر الزام تراشی نہیں کررہے لیکن یہ ہمارا کیا دھرا نہیں۔کیا مجھے کشکول اٹھا کر مدد کی اپیل کرنی چاہیے؟ چین، پیرس کلب سمیت سب سے غیرملکی قرضوں کی معطلی کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔پاکستان کسی صورت بھی نادہندہ نہیں ہوگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛ ایم این اے جتنے پیسے الیکشن سیٹ پر خرچ کرتے اتنی تو مجھے تنخواھ ملتی تھی۔ شہباز گل
صوفیہ مرزا کی سابق شوہر عمرفاروق کیخلاف میڈیا میں آنے پر پابندی کی التجا عدالت نے انکار کردیا
جامشورو:انڈس ہائی وے پرٹرالراوربس میں تصادم سے10 افراد جاں بحق،13 زخمی

ان کا کہنا ہے کہ ہم مالی معاونت کی بات کررہے مزید قرضوں کی نہیں۔امیر ممالک نے موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلئے 100 ارب ڈالرماحولیاتی فنڈ میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔موسمیاتی ہنگامی صورتحال کے لئے وہ رقم کہاں ہے؟امیر ممالک کے لئے اپنے وعدے پورے کرنے کا یہ بہترین وقت ہے۔