fbpx

پاک آئل ریفائنریز کا روسی تیل خریدنے سے انکار

پاکستاں نیشنل ریفائنری لمیٹڈ نے روس سے خام تیل درآمد کرنے پر وزارت توانائی سے معذرت کر لی ہے، تمام ریفائنریوں نے کہا ہے کہ: نقل وحرکت اور سفر پر لاگت، سفر کے وقت میں اضافہ، کم صلاحیت، ادائیگی کا طریقہ کار اور مشرق وسطیٰ کے سپلائرز کے ساتھ طویل مدتی معاہدہ۔ روسی تیل کی درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ۔

روسی خام تیل کی درآمد پر پیٹرولیم ڈویژن کے خط کے جواب میں نیشنل ریفائنری لمیٹڈ نے کہا ہے کہ: این آر ایل کے پاس لیوب ریفائنریز ہیں اور ریفائنریز کی ترتیب فیڈ اسٹاک کی فہرست کو محدود کردیتی ہے۔ ہم وقتاً فوقتاً عربین لائٹ کروڈ کے متبادل فیڈ اسٹاک کی نشاندہی کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں، جو ریفائنری کی ترتیب کے مطابق ہے۔

"مشرق وسطی کی بندرگاہوں سے عام جہاز رانی کا وقت تقریباً 4 دن ہوتا ہے، جب کہ سابق روس کی بندرگاہ اور ممکنہ راستے سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ سفر کا وقت (ایک طرفہ) تقریباً 20 دن کا ہوگا۔ مزید برآں، یہ راستہ جنگی علاقوں سے گزرنے کا امکان ہے،‘‘ خط میں کہا گیا۔

واضح رہے کہ: روس سے خام تیل کی خریداری کے معاملے پر وزارت توانائی نے روس سے تیل خریداری کیلیے ریفائنریز کو خط لکھ ا تھا جس میں کہا گیا تھاکہ آئل ریفائنریز اس معاملے پر اپنی تجاویز حکومت کو بھیجیں، روس سے تیل کی مقدار اور ادائیگی کا طریقہ کیا ہو گا، تیل درآمد کرنے کے ٹرانسپورٹیشن اخراجات کیا ہوں گے؟ کیا روس سے تیل خریدنے سے عرب ممالک کے ساتھ معاہدے تو متاثر نہیں ہو نگے؟

علاوہ ازیں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا ان کی حکومت روس سے سستا خریدنا چاہتی تھی لیکن موجودہ حکومت امریکا کے دباؤ کی وجہ سے روس سے تیل نہیں خرید رہی، یوکرین جنگ کے باعث روس پر عائد پابند یوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں بھارت شامل ہے، وہ روس سے صرف30ڈالر بیرل کے حساب سے6لاکھ بیرل یومیہ خرید رہا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں اس وقت خام تیل کی قیمت100ڈالر فی بیرل سے زائد ہے۔