fbpx

پاک فضائیہ کے ایف سکسٹین پروگرام کو چالیس سال مکمل

پاک فضائیہ کے ایف سکسٹین پروگرام کو چالیس سال مکمل

پاک فضائیہ کے ایف سکسٹین پروگرام کو چالیس سال مکمل ہو گئے ہیں۔ ۔یہ پروگرام لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ امریکی ملٹی رول ایف سکسٹین کا فائٹنگ فالکن کو حاصل کرنے اور چلانے کا منصوبہ ہے جو انیس سو اسی میں شروع ہوا۔ دنیا نے اسے پاک فضائیہ کی طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاک امریکا تعلقات میں ایک بڑی تزویراتی تبدیلی کے طور پر دیکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے طیاروں کی قیمت 1983 میں ادا کی۔ جس کے بعد 36 ایف 16 طیارے 2008 سے 2010 کے دوران پاکستان کو ملے، ایف 16 طیاروں کی مدد سے پاک فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا اور ایف 16 نے پاک بھارت فوجی صلاحیتوں میں توازن پیدا کیا۔ پاکستان نے اپنی فضائیہ کو جدید بنانے اور اُس کی صلاحتیں بڑھانے کے لیے امریکہ سے ایف 16 طیارے خریدنے کی کوشش کی تو اس کے راستے میں کئی رکاوٹیں آئیں۔

پاک بھارت تناؤ اور پاکستان کے جوہری پروگرام کے باعث طیاروں کی حوالگی کا معاملہ لٹکتا گیا ۔بالا آخر 2006 میں امریکی حکومت نے پاکستان کو 36 طیارے فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔ پاکستان ایئر فورس کی جانب سے مرحلہ وار نہ صرف ان طیاروں کو آپریٹ کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپ گریڈ بھی کیا گیا۔ پھر یہ ایف 16 مختلف جنگی اور تربیتی مشقوں میں استعمال ہوتے رہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
جنوری2023 کیلیے 533.453ارب کا ٹیکس ہدف مقرر
توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ
جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
یہ لڑاکا طیارے جدید ایونکس، ہتھیاروں اور الیکٹرانک جنگی نظام سے لیس ہیں۔ یہ طیارے فضا سے فضا، فضا سے زمین پر حملے اور جاسوسی سمیت وسیع پیمانے پر مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایف 16 کی مدد سے پاکستان اور بھارت کی فوجی صلاحیتوں میں توازن پیدا کرنے میں مدد ملی۔ پاکستان کی اپنے پڑوسی کی جارحیت کو روکنے اور اس کا جواب دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ۔یہی نہیں انہی ایف 16 کو انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھی کامیابی سے استعمال کیا گیا۔